مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے پہلے دور میں فریقین نے مثبت پیش رفت کے دعوے کیے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خان خٹک نے کہا ہے کہ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ حکومت ایک ماہ کے اندر اندر مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن نافذ کرنے کے علاوہ سوات میں امن کے حوالے سے دیگر اقدامات بھی کرے گی۔ مذاکرات میں مقامی طالبان کی نمائندگی کرنے والے ان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حکومت کو سات مطالبات پیش کیے ہیں۔ منگل کو پشاور میں سوات کے حوالے سے قائم امن جرگہ کا ایک اجلاس شاہی مہمان خانہ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء اور سوات کے مقامی طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عوامی نشینل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خان خٹک نے کہا کہ اجلاس میں فریقین نے امن بات چیت کو آگے بڑھانے اور مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افرسیاب خٹک نے کہا کہ اجلاس میں سوات کے حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جو علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی گی جبکہ فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے بھی کام کریگی۔ کمیٹی میں حکومت کی طرف سے صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان، ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر، ڈی آئی جی سوات، ڈی سی او ، ڈی پی او جبکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے مولانا محمد امین، علی بخت خان، نسیم روان، مسلم خان اور شمشیر شامل ہونگے۔
حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مطالبات میں سب سے بڑا مطالبہ مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا عملی نفاذ ہے۔ دیگر مطالبات میں سوات سے فوج کی فوری واپسی ، قیدیوں کا تبادلہ، نقصانات کا ازالہ کرنا، ایف ایم ریڈیو کا دوبارہ اجراء، سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف تمام مقدمات واپس لینا اور امام ڈھیری مرکز کو دوبارہ مقامی طالبان کے تحویل میں دینا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سوات میں چار دن قبل مولانا فضل اللہ کے حامی مقامی طالبان اور سرحد حکومت کے درمیان عارضی فائر بندی ہوئی تھی۔ ملک میں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے سوات کے مسئلے کو مذاکرات کےذریعے حل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدے کے بعد تنظیم کے اسیر رہنماء مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا تھا۔ | اسی بارے میں مینگورہ: دھماکے میں حملہ آور ہلاک10 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان سوات: لڑکیوں کا سکول نذرِ آتش04 May, 2008 | پاکستان سوات: یونین کونسل ناظم قتل22 April, 2008 | پاکستان سوات، سکیورٹی میں اضافہ 11 April, 2008 | پاکستان سرحد: حکومتی جرگہ کی تشکیل08 April, 2008 | پاکستان سرحد: کورکمانڈر، وزیراعلی ملاقات08 April, 2008 | پاکستان فضل اللہ کا ایف ایم چینل پھر’بند‘21 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||