BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں

مولانا فضل اللہ
مولانا فضل اللہ کے حامی چار دن قبل عارضی فائر بندی پر راضی ہوئے ہیں
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے پہلے دور میں فریقین نے مثبت پیش رفت کے دعوے کیے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خان خٹک نے کہا ہے کہ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ حکومت ایک ماہ کے اندر اندر مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن نافذ کرنے کے علاوہ سوات میں امن کے حوالے سے دیگر اقدامات بھی کرے گی۔

مذاکرات میں مقامی طالبان کی نمائندگی کرنے والے ان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حکومت کو سات مطالبات پیش کیے ہیں۔

منگل کو پشاور میں سوات کے حوالے سے قائم امن جرگہ کا ایک اجلاس شاہی مہمان خانہ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء اور سوات کے مقامی طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عوامی نشینل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خان خٹک نے کہا کہ اجلاس میں فریقین نے امن بات چیت کو آگے بڑھانے اور مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افرسیاب خٹک نے کہا کہ اجلاس میں سوات کے حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جو علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی گی جبکہ فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے بھی کام کریگی۔

کمیٹی میں حکومت کی طرف سے صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان، ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر، ڈی آئی جی سوات، ڈی سی او ، ڈی پی او جبکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے مولانا محمد امین، علی بخت خان، نسیم روان، مسلم خان اور شمشیر شامل ہونگے۔

مطالبات
 سوات سے فوج کی فوری واپسی ، قیدیوں کا تبادلہ، نقصانات کا ازالہ کرنا، ایف ایم ریڈیو کا دوبارہ اجراء، سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف تمام مقدمات واپس لینا اور امام ڈھیری مرکز کو دوبارہ مقامی طالبان کے تحویل میں دیں

حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مطالبات میں سب سے بڑا مطالبہ مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا عملی نفاذ ہے۔ دیگر مطالبات میں سوات سے فوج کی فوری واپسی ، قیدیوں کا تبادلہ، نقصانات کا ازالہ کرنا، ایف ایم ریڈیو کا دوبارہ اجراء، سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف تمام مقدمات واپس لینا اور امام ڈھیری مرکز کو دوبارہ مقامی طالبان کے تحویل میں دینا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سوات میں چار دن قبل مولانا فضل اللہ کے حامی مقامی طالبان اور سرحد حکومت کے درمیان عارضی فائر بندی ہوئی تھی۔

ملک میں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے سوات کے مسئلے کو مذاکرات کےذریعے حل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

کمیٹی نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدے کے بعد تنظیم کے اسیر رہنماء مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا تھا۔

اسی بارے میں
سوات، سکیورٹی میں اضافہ
11 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد