BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 April, 2008, 01:08 GMT 06:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: کورکمانڈر، وزیراعلی ملاقات

 سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان
امیر حیدر خان ہوتی کہتے ہیں کہ صوبہ میں امن وامان کے مسئلے کو طاقت کی بجائے بات چیت کے ذریعے سے حل کرایا جائے گا
کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل مسعود اسلم نے پیر کو صوبہ سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی سے وزیراعلی سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر رحیم داد خان، سنیٹر زائد خان اور چیف سیکرٹری صوبہ سرحد بھی موجود تھے۔

 ملاقات میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر رحیم داد خان، سنیٹر زائد خان اور چیف سیکرٹری صوبہ سرحد بھی موجود تھے
وزیراعلی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مسعود اسلم نے قبائلی علاقوں، سوات اور دیگر بندوبستی اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں صوبائی قیادت کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اس وقت صوبہ سرحد کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کےلیے تمام قوتوں کو مل بیٹھ کر اجتماعی کاوشیں کرنا ہوگی اور ایک قوم کی حیثیت سے قومی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد صوبہ سرحد میں دیرپا اور پائیدار امن کےلیے عملی اقدامات کا آغاز کرنے والے ہیں جن میں مقامی سطح پر سیاسی قوتوں، عوامی نمائئندوں اور علمائے کرام پر مشتمل جرگوں کی تشکیل سرفہرست ہوگی۔

بیان کے مطابق وزیراعلی نے کہا کہ دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے مگر اس کا حل صرف طاقت کا استعمال نہیں ہے بلکہ اس پر قابو پانے کےلیے مذاکرات جیسے پہلوؤں پر بھی غور کرنا ہوگا۔

ملاقات میں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مسعود اسلم نے کہا کہ کسی بھی مرض کے علاج کےلیے تشخیص اولین حیثیت رکھتی ہے اور اس طرح قومی مسائل کی صحیح نشاندہی کر کے مفاہمت کی طرف پیش رفت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

وزیراعلی امیر حیدر خان کی طرف سے حلف لینے کے بعد ان کی کسی اعلی فوجی اہلکار سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

واضح رہے کہ وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی اخباری بیانات میں بار بار اس بات کا واضح اظہار کرچکے ہیں کہ صوبہ میں امن وامان کے مسئلہ کو طاقت کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرایا جائے گا۔

گزشتہ دنوں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کو ایک قوت کے طورپر تسلیم کیا تھا۔

اسی بارے میں
سرحد کابینہ کی حلف برداری
02 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد