پہلی قرارداد سی آئی اے کے خلاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار امیر حیدر خان ہوتی نے متفقہ طورپر قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد وزارتِ اعلی کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس پشاور کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی جس میں گورنر سرحد اویس احمد غنی نے نو منتخب وزیراعلی سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر گورنر ہاؤس کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس تقریب میں عوامی نشینل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، افرسیاب خٹک، کور کمانڈر پشاور، وفاقی وزراء اور نامزد صوبائی وزراء کے علاوہ اعلی اور سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ دوسری طرف ایوان نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اس بیان کے خلاف متفقہ قرار داد مذمت منظور کی جس میں انہوں نے قبائلی علاقوں میں ہونے والے حملوں کو امریکی مفاد میں قرار دیا ہے۔ اس سے قبل منگل کو جب سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کی زیرصدارت سرحد اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو تمام اراکین نے امیرحیدر ہوتی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وہ ایک سو سترہ کے ایوان میں تمام یعنی ایک سو پندرہ ووٹ لیکر متفقہ طورپر وزیراعلی منتخب ہوئے۔ دو اراکین ایوان کی کارروائی سے غیر حاضر رہے اور قائد ایوان کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ اس سے قبل ایوان میں اس وقت گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی راہنما پیر صابر شاہ نے ایک نقطۂ اعتراض پر سپیکر سے درخواست کی کہ امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ مائیکل ہیڈن کے قبائلی علاقوں سے متعلق بیان پربحث کی اجازت دی جائے۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ چونکہ آج قائد ایوان کا انتخاب ہونا ہے اس لئے اس پر آج بات نہیں سکتی۔ تاہم بعد میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کی مشاورت سے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن میاں افتخار حسین نے ایوان میں ایک قرار داد مذمت پیش کی جس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور مرکزی حکومت سے بیان کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایوان نے قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی۔ منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ایوان میں موجود تمام اراکین اس صوبے کے عوام اور ان کے مسائل کو حل کرنے پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اوّلین ترجیح صوبہ میں امن وامان کی بحالی اور عوام کے جان ومال کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے پہلے کی حکومتیں مسائل کے حل کےلئے طاقت کو پہلے آپشن کے طورپر استعمال کرتے رہے ہیں۔ جبکہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے بلکہ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ فروری 1971 کو مردان میں پیدا ہونے والے سینتیس سالہ امیر حیدر خان ہوتی کو صوبہ سرحد کی تاریخ کے پہلے کم عمر وزیراعلی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ قیام پاکستان کے بعد صوبے کے بیسویں اور اے این پی کے پہلے وزیراعلی ہیں۔ وہ سابق وفاقی وزیر اعظم خان ہوتی کے صاحبزادے ، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے بھانجے جبکہ بیگم نسیم ولی خان کے بھتیجے ہیں۔ ان کے دادا امیر حیدر خان ہوتی خدائی خدمت گار تحریک کے بانی اور جنگ آزادی کے سرخ پوش راہنما عبد الغفار خان المعروف باچا خان کے قریبی ساتھی تھے۔ حیدر خان ہوتی نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی اور گریجویشن ایڈورڈز کالج پشاور سے کیا۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز 1990 کی دہائی میں کیا او اس دوران اے این پی ضلع مردان کے آرگنائزر، سنیئر نائب صدر اور صوبائی جوائنٹ سیکرٹری کے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے دو ہزار دو کے انتخابات میں پہلی بار پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا اور پی ایف تئیس سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ | اسی بارے میں سوات کا حل مذاکرات ہیں: ہوتی04 March, 2008 | پاکستان ’طالبان ایک طاقت ہیں، مذاکرت کریں گے‘29 February, 2008 | پاکستان ’پاک افغان سرحد پر حملے ناگزیر‘ 31 March, 2008 | پاکستان ’القاعدہ سے بات چیت نہیں‘28 March, 2008 | پاکستان سرحد: سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب29 March, 2008 | پاکستان صرف شرعی قانون قابل قبول: طالبان30 March, 2008 | پاکستان سرحد اسمبلی کا افتتاحی اجلاس28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||