BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب

کرامت اللہ چغرٹی (فائل فوٹو)
کرامت اللہ چغرمٹی بلامقابلہ اسپیکر منتخب کیے گئے ہیں۔
سرحد اسمبلی نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار کرامت اللہ چغرمٹی کو بلامقابلہ سپیکر اور خوشدل خان کو ڈپٹی سپیکر منتخب کرلیا ہے۔

سنیچر کو جب اجلاس شروع ہوا تو اجلاس کے صدر ارباب ایوب جان نے اعلان کیا کہ چونکہ کرامت اللہ چغرمٹی کے مقابلہ میں کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے لہذا انہیں سرحد اسمبلی کا بلامقابلہ سپیکر منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ارباب ایوب جان نے ان سے سپیکر کے عہدہ کا حلف لیا۔

نومنتخب سپیکر نے بعد میں خوشدل خان ایڈوکیٹ کے بلامقابلہ ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان سے حلف لیا۔ کرامت اللہ چغرمٹی کا تعلق پیپلز پارٹی سے جبکہ خوشدل خان ایڈوکیٹ کا عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد اپوزیشن کی چار جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں جن میں پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے پرویز خٹک، جے یو آئی کے رکن اور سابق وزیراعلی اکرم خان درانی، مسلم لیگ (ن) کے پیر صابر شاہ اور مسلم لیگ (ق) کے قلندر لودھی نے کرامت اللہ چغرمٹی اور خوشدل خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب حکمران اتحاد کی ان مثبت کوششوں کا ثبوت ہے کہ اس نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرکے ان سے امیدوار سامنے نہ لانے کا مطالبہ کیا۔

 کرامت اللہ چغرمٹی کا تعلق پیپلز پارٹی سے جبکہ خوشدل خان ایڈوکیٹ کا عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بشیر احمد بلور نے اپوزیشن کی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انکی حکومت جس طرح اسمبلی سے باہر جرگوں کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، اسی طرح آج انہوں نے اپوزیشن کی جماعتوں کو جرگوں کے ذریعے مقابلے کے لیے امیدوار سامنے نہ لانے پر رضامند کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اسمبلی کو بھی مصالحتی انداز میں چلانے کے خواہاں ہیں۔

اجلاس میں اراکین اسمبلی نے صوبہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، صوبائی خودمختاری، صوبے کے نام کی تبدیلی اور مہنگائی اور روزگار کے موضوعات پر بات چیت کی۔

اس کارروائی کے بعد سپیکر نے اجلاس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔

دوسری طرف گورنر سرحد نے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے پیر کے روز دوبارہ اجلاس بلایا ہے اور وزارت اعلیٰ کے عہدہ کا ا نتخاب منگل کو متوقع ہے۔حکمران اتحاد اور بعض اپوزیشن جماعتوں کے اندرونی حلقوں نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی طرح قائد ایوان کا بھی بلا مقابلہ انتخاب کا امکان ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے کہ سرحد اسمبلی کے ایک سو سترہ کے ایوان میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کو پچھہتر سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت سازی کے فارمولے کے تحت اے این پی کو وزارت اعلیٰ، ڈپٹی سپیکر اور بارہ وزارتیں جبکہ پیپلز پارٹی کو سپیکرشپ اور نو وزارتیں دی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ابھی تک اپنے نو وزراء کے ناموں کا اعلان نہیں کیا جس کی ایک وجہ پارٹی کے اندر وزارتوں پر اختلافات بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد