’پاک افغان سرحد پر حملے ناگزیر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نےمحفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں اور یہ صورتحال مغرب کے لیے واضح خطرہ ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس بات کا یقین ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود ہیں لہذا یہاں حملہ کرنا امریکہ کے مفاد میں ہے کیونکہ اگر امریکہ پر کوئی بھی اور حملہ کیا گیا تو اس کی منصوبہ بندی اسی علاقے میں ہوگی۔ مائیکل ہیڈن نے مزید کہا کہ ’مغربی علاقوں پر حملے کے لیے تربیت انہی علاقوں میں دی جا رہی ہے۔اور یہ لوگ شکل وشباہت میں مغربی باشندے ہی نظر آئیں گے لہذاہ وہ با آسانی امریکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔‘ مائیکل ہیڈن نےاس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ ملک میں پرویز مشرف کا اثر کم ہونے کی صورت میں امریکہ پاکستان میں قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف یکطرفہ کاروائی کر سکتا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے انتہائی حساس ہیں اور پاک افغان سرحدی صورتحال پاکستان، افغانستان، مغربی ممالک اور امریکہ کے لیے خطرہ ہے۔ | اسی بارے میں ’بیٹا مارا گیا، انہوں نے بس بہت ظلم کیا‘20 January, 2007 | پاکستان فوجی کارروائی میں 45 ہلاک01 March, 2006 | پاکستان ’بیت اللہ محسود ذمہ دار ہیں‘28 December, 2007 | پاکستان پاکستانیوں کا نیویارک میں مظاہرہ09 November, 2007 | پاکستان ’انتخابات کروائیں، وردی اتاردیں‘08 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ہٹائی جائے: بش06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||