کرم ایجنسی: امن جرگے کی آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے دس مشران پر مشتمل ایک امن جرگہ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار پہنچ رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ جرگہ کے پانچ ارکان پہلے ہی پارہ چنار پہنچ گئے ہیں۔ جرگہ فریقین سے علاقے میں پائیدار امن کے قیام اور تمام اہم شاہراہیں کھولنے سمیت اہم امور پر امن مذاکرات کرے گا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں تقریباً چار ماہ قبل ہونے والی فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد علاقے میں غیر یقینی اور کشیدگی برقرار ہے جبکہ مرکزی پارہ چنار، پشاور سڑک بھی گزشتہ ایک ماہ سے بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک ہفتہ قبل کرم ایجنسی میں پارہ چنار سے آنے والی ایک ایمبولنس گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے چپری چیک پوسٹ کے قریب حملہ کیا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے قافلوں پر حملوں اور اغواء کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے تمام اہم شاہراہیں اور گاڑیوں کی آمد رفت بند ہے۔ پارہ چنار کے ایک رہائشی عظمت علی توری نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں بدستور غیر یقینی اور کشیدگی کی کفیت ہے جس میں کمی کے بجائے روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی آمد ورفت بند ہونے کی وجہ سے پارہ چنار شہر میں غذائی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ بھی ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں آٹے کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے چالیس کلو آٹا کے تھیلے کی قیمت ڈھائی سے تین ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ ایک قبائلی ملک جان محمد خان کے مطابق علاقے میں کئی ہفتوں سے بجلی بھی بند ہے جس سے تمام کاروبار زندگی بالکل مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارہ چنار شہر میں ڈیزل اور پیٹرول کا ذخیرہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ ان کے بقول ایک سر درد کی گولی خریدنے کے لئے بھی لوگوں کو دربدر کی ٹھوکریں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ سال نومبر میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے دوران تقریباً تین سو کے قریب افراد ہلاک اور سات سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد سے علاقے میں بدستور کشیدگی پائی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں ہنگو: جھڑپوں کے بعد فائربندی22 March, 2008 | پاکستان ہنگو میں کرفیو، فائرنگ سے2ہلاک21 January, 2008 | پاکستان ہنگو: کرفیو کے باوجود فائرنگ20 January, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: جنگ بندی میں توسیع09 January, 2008 | پاکستان کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل 30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||