ہنگو میں کرفیو، فائرنگ سے2ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں حکام کے مطابق کرفیو کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ میں دو عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام شاہو روڈ پر گلشن کالونی کے قریب ایک مسجد کے سامنے پیش آیا۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کا ایک قافلہ علاقے میں کرفیو پر عمل درآمد کے لیے سڑک پرگشت کر رہا تھا کہ شاہو روڈ پر بعض مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس میں دو مسلح افراد مارے گئے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شاہو روڈ پر ایک مسجد میں اہل سنت والجماعت کے مشران کا ایک جرگہ ہو رہا تھا جس میں علاقے کے عمائدین بڑی تعداد میں شریک تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مسجد کے سامنے پہرہ دینے والے مسلح افراد پر فائرنگ کردی جس میں ان کے مطابق تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کی شروعات کس نے کی۔ ادھر ہنگو شہر میں پیر کو دوسرے روز بھی کرفیو نافذ رہا اور اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں فریقین بدستور مورچہ زن ہیں جس سے کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ہنگو کے ضلعی رابط افسر شہاب علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں عارضی فائربندی کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تو بند ہوگیا ہے تاہم کچھ مقامات پر بدستور کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک شہر میں حالات مکمل طورپر معمول پر نہیں آتے اس وقت تک علاقے میں کرفیو مسلسل نافذ رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کو شہر میں فائرنگ کے واقعات میں ایک مارٹر گولہ امام بارگاہ پر بھی گرا تھا جس میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ ضلعی رابطہ افسر کے بقول گزشتہ روز کی فائربندی کے بعد ہنگو امن جرگہ اراکین نے پیر کو شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور فریقین سے جنگ بندی پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہنگو شہر میں آج دوسرے روز بھی تمام بازار اور دکانیں بند رہیں جبکہ شہر تک آنے جانے والے تمام راستوں پر فوج اور فرنٹیر کور کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ تاہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض پہاڑی علاقوں میں فریقین بدستور مورچوں میں پوزیشینیں سنبھالے ہوئے ہیں جس سے مقامی باشندوں کے مطابق شہر میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ہنگو میں ایک ماتمی جلوس پر حملے کے بعد شہر میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت بارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں کشیدگی کے باعث اتوار کی صبح ہی سے شہر کو فوج کے حوالے کرکے وہاں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں ہنگو: کرفیو کے باوجود فائرنگ20 January, 2008 | پاکستان محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان عاشورہ پر سخت حفاظتی انتظامات19 January, 2008 | پاکستان ’غیرشرعی اقدامات سےتوبہ کریں‘04 October, 2007 | پاکستان ہنگو: فوجی چوکی پر حملہ، چار ہلاک20 August, 2007 | پاکستان ہنگو جرگے میں فائرنگ، 7 ہلاک22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||