BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشورہ پر سخت حفاظتی انتظامات

اسلام آباد
اسلام آباد میں محرم کے موقع پر سکیورٹی انتظامات
یوم عاشور پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پینتیس اضلاع پہلے ہی حساس قرار دئیے گئے تھے۔

ملک کے مختلف شہروں میں ماتمی جلوس اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور تاحال کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔

کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق صوبہ بلوچستان میں یومِ عاشورہ انتہائی سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔ کوئٹہ میں فوج، نیم فوجی دستے، پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس کے کوئی آٹھ ہزار اہلکار تعینات ہیں اور شہر میں ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں۔

کوئٹہ میں علم اور ذوالجناح کا جلوس علمدار روڈ سے شروع ہوا اور میزان چوک پر مقررین نے جلوس میں شامل شرکاء سے خطاب کیا ہے۔ مقررین نے حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت کے واقعہ پر روشنی ڈالی۔

شیعہ کانفرنس کے سربراہ اشرف زیدی نے کوئٹہ کی انشداد دہشت گردی کی جیل سے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشگردوں کے فرار کے بعد تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد حساس مقامات پر فوج کو تعینات کر دیا گیا۔

جلوس کے راستوں کو سنیچر کی رات سے سیل کر دیا گیا تھا۔ عمارتوں پر پولیس اور ایف سی کے اہلکار موجود تھے جبکہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا گشت جاری تھا۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ محرم کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے اہل تشیعہ کے رضا کاروں کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور اور فوج کے دستے بھی تعینات کیے گئے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں مرکزی جلوس سیکٹر جی سکس میں واقع امام بارگاہ سے نکالا گیا۔ جلوس میں شامل ہونے کے لیے پہلی بار ایک مخصوص جگہ کا تعین کیا گیا اور راستے میں کسی کو بھی جلوس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

جلوس میں شامل ہونے سے پہلے لوگوں کو تین چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑا۔ جلوس کے گرد سیکورٹی کے دو حصار قائم کیے گئے۔ پہلے حصار میں رضا کار اور دوسرے میں پولیس اہلکار چلتے رہے۔ جبکہ رینجرز کے دستے بھی ساتھ ساتھ گشت کرتے رہے۔

راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں متعدد چھوٹے چھوٹے جلوس نکالے گئے۔ لیکن مرکزی جلوس کرنل مقبول کی امام بارگاہ سے نکالا گیا۔ راولپنڈی میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ فوج بھی تعینات کی گئی۔ جہاں جہاں سے جلوس گزرا وہاں اونچی عمارتوں پر پولیس اہلکار چوکس نظر آئے۔

جلوس کے شرکاء کے لیے چیک پوسٹ
پشاور

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ صوبۂ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ جمعرات کوامام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد نویں محرم الحرام کو اہل تشیع کے ماتمی جلوسوں کے انعقاد کے موقع پر پشاور اور ڈیرہ اسماعیل میں سخت سکیورٹی کے سبب مارکیٹیں، نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور دفاتر مکمل طور پر بند رہے۔

نگران صوبائی حکومت کی طرف سے پشاور سمیت چار اضلاع کو حساس قرار دیئے جانے کے بعد سنیچر کو صوبہ بھر میں پچھے سال کے نسبت اس سال پہلی مرتبہ سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے کو ملے۔پشاور میں ایک جلوس صدر میں واقع حسینیہ امام بارگاہ سے صبح گیارہ بجے برآمد ہوا جو مختلف راستوں سے ہوتا ہوا پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔

اس موقع پر صدر اور نوتھیا کے علاقے کو خاردار تاریں بچھا کر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا جبکہ جلوس میں شرکت کرنے والوں کی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔اس سال پہلی بار خواتین پولیس اہلکار عورتوں کی بھی تلاشی لے رہی تھیں۔

سڑکوں پر ٹریفک کا بہاؤ اور لوگوں کا رش اتنا کم تھا کہ شہر کرفیو کا سا سماں پیش کررہا تھا۔

ادھر ڈیر اسماعیل خان سے بھی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی صبح ماتمی جلوس نکلا جو مقرہ راستوں سے ہوتا ہوا پرامن طور پر ختم ہوا۔ ڈیرہ اسماعیل میں بازار مکمل طور پر بند تھا جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ جاری رہی۔دو دن قبل انتظامیہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پچاس افراد پر مشتمل ایک امن کمیٹی نے متفقہ طور پر نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر بازار کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

محرم کا ماتمی جلوس
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ کرم ایجنسی میں مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صدر مقام پاڑہ چنار کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ علاقے میں معمولات زندگی مکمل طور پر معطل ہیں۔ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بالا کرم کی جانب جانے والے ٹل پاڑہ چنار شاہراہ پر کئی عارضی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو شہر کی طرف جانے کی اجازت نہیں۔

حساس قرار دیئے جانے والے ضلع ہنگو میں سنیچر کو صوبہ سرحد کے چیف سیکریٹری ریاض نور اور آئی جی پولیس شریف ورک نے علاقے کے شیعہ اور سنی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں امن و امان برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہنگو میں حساس مقامات پر مورچے بنادیئے گئے ہیں جبکہ سنیچر کی شام سے بازار مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ اس بار ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر دکانداروں نے اپنا سامان کہیں اور منتقل کردیا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق محرم کا جلوس مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد سے برآمد ہوا اور نیشنل پارک پر اختتام پذیر ہوا۔ ایک اور مرکزی جلوس نشتر پارک شاہِ خراساں سے برآمد ہوا۔

شیعہ رضاکار جلوس کے شرکاء کی تلاشی لے رہے ہیں
کراچی میں فضائی جائزہ لینے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتے نظر آئے۔ جلوسوں کی گزرگاہوں کے ارد گرد واقع عمارات کی چھتوں پر آنے سے بھی لوگوں کو روکا جارہا ہے۔

مختلف مقامات اور جلوسوں میں دھماکہ خیز مواد پر نظر رکھنے کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی بھی مدد لی گئی ہے۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق صرف ان کی فورس کے دس ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ فوج کوتیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا ہے کہ چند روز قبل لاہور میں پولیس اہلکاروں کو خود کش بم حملے سے نشانہ بنائے جانے کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات کافی غیر معمولی نوعیت کے ہیں۔

نویں محرم کا ایک مرکزی جلوس کرشن نگر سے برآمد ہوا ہے اور جلوس کے راستہ کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔

جلوس میں شامل ہونےکے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے گئے ہیں جہاں جامع تلاشی کے بعد پولیس کسی کو بھی جلوس میں جانے کی اجازت دیتی ہے۔

پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ماتمی جلوس نکالے گئے جس میں عزاداروں نے نوحہ خوانی کرتے ہوئے سینہ کوبی کی اور غم حسین کی یاد اپنے روایتی انداز میں منائی۔

پشاور دھماکہپشاور دھماکہ
امام بارہ گاہ میں مبینہ خود کش حملہ، تصاویر
امام بارگاہ کی گھڑیرپورٹر کی ڈائری
امام بارگاہ کی گھڑی اور دھماکے کا ٹائم
اسی بارے میں
محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت
10 January, 2008 | پاکستان
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد