کرم ایجنسی: جنگ بندی میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فریقین کے مابین عارضی فائربندی میں توسیع کے بعد حکومت کا دعوی ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں نوے فیصد مقامات پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے ایجنسی میں محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے کےلئے حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کےلیے انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق فریقین کے مابین چار روز قبل ہونے والی تازہ فائربندی میں امن جرگہ نے مزید پانچ دن کی توسیع کردی ہے۔ کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے مرضی کے مطابق پندرہ جنوری تک علاقے میں مکمل فائر بندی ہوگی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ فریقین کی طرف سے خالی کردہ علاقوں میں نوے فیصد مقامات پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ حساس علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سڑکوں پر گشت بھی جاری ہیں۔ پولیٹکل ایجنٹ نے کہا کہ علاقے میں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کےلئے اہل تشیع اور اہل سنت کے مشران سے بات چیت جاری ہے۔ ظہیر الااسلام کا کہنا تھا کہ علاقے میں محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کےلئے مزید سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایجنسی میں اڑتالیس کے قریب نئے چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جبکہ حساس علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے مزید دستے تعینات کئے جارہے ہیں۔ دوسری طرف علاقے میں بدستور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ ایجنسی میں تمام اہم شاہراہیں، تعلیمی ادارے، سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر تقربناً دو ماہ سے بند پڑے ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے علاقے میں ادویات کی شدید قلت ہے جس سے بیماریوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ سولہ نومبر کو پارہ چنار شہر میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے جو کئی روز تک جاری تھے تاہم بعد میں سابق گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے شعیہ سنی عمائدین پر مشتمل ایک امن جرگہ نے کئی روز کے کوششوں کے بعد فریقین کے مابین عارضی فائربندی کرائی ۔ لیکن فریقین نے ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور دوبارہ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جو تقربناً دو ہفتوں تک جاری تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک تین سو کے قریب افراد ہلاک جبکہ پانچ سو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل 30 December, 2007 | پاکستان کرم:لڑائی جاری، امن مذاکرات شروع27 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی تصادم، پندرہ ہلاک21 June, 2006 | پاکستان کرم ایجنسی: تحریری معاہدہ24 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||