BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 December, 2007, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل

 کرم ایجنسی
علاقے میں تمام سڑکیں ، تعلیمی ادارے، سرکاری نیم سرکاری دفاتراور بینک گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے بند پڑے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں متحارب گروہوں کے مابین جاری تازہ جھڑپوں میں سرکاری املاک کو میزائیلوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری طرف گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے شعیہ سنی مشیران پر مشتمل امن جرگہ علاقے میں جنگ بندی کےلیے ایک مرتبہ پھر پارہ چنار پہنچ چکا ہے۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ مجیب الرحمان کے گھر پر نامعلوم افراد کی طرف سے میزائل پھینکا گیا جبکہ کرم ملیشاء ٹو ونگ کے صدر دفتر اور تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال صدر کو بھی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تاہم حملوں میں جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔

لڑائی میں نقصان
آٹھ روز پہلے دوبارہ شروع ہونے والی اس فرقہ وارانہ تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک پچاس سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ مجموعی طورپر سولہ نومبر سے شروع لڑائی میں دونوں طرف سے تین سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد بتائی جارہے ہے۔
سرکاری ذرائع
پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق لوئر کرم کے زیادہ تر علاقوں میں آٹھ روز قبل دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل، صدہ، سخی احمد شاہ، علی زئی، بگن، مندوری بنگش، انجرئی، مخزئی، جلیمہ اور علی زئی جبکہ اپر کرم کے علاقوں پیواڑ اور تری منگل کے علاقوں میں فریقین مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق آٹھ روز پہلے دوبارہ شروع ہونے والی اس فرقہ وارانہ تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک پچاس سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ مجموعی طورپر سولہ نومبر سے شروع لڑائی میں دونوں طرف سے تین سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔

صدر مقام پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں گزشتہ آٹھ روز سے بغیر کسی وفقے کے کرفیو نافذ ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید سردی اور پہاڑوں برف بھاری کے باعث لوگ کئی قسم کے بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ پارہ چنار کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ مقامی لوگ سر درد کی گولیاں خریدنے کےلیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

اس کے علاوہ علاقے میں تمام سڑکیں ، تعلیمی ادارے، سرکاری نیم سرکاری دفاتراور بینک گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ہنگو اورکزئی امن جرگہ نے انیس دسمبر کو فریقین کے مابین دس جنوری تک ایک تحریری فائربندی کرائی تھی تاہم علاقے میں تین دن خاموشی رہنے کے بعد فریقین کے درمیان ایک بار پھر لڑائی کا آغاز ہوا جو آج آٹھویں روز بھی جاری ہے۔

کرم ایجنسی’مذہب کے نام پر‘
کرم ایجنسی کے فسادات اور امن معاہدے
پارہ چنارپارہ چنار کی تباہی
’ایسا لگتا ہے کہ یہاں بڑی جنگ لڑی گئی ہے‘
کرم ایجنسیکرم ایجنسی میں امن
شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ
 پاڑہ چنار (فائل فوٹو)’ہر طرف لاشیں ہیں‘
پارہ چنار میں لڑائی کے عینی شاہد نے کیا دیکھا
اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد