کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں متحارب گروہوں کے مابین جاری تازہ جھڑپوں میں سرکاری املاک کو میزائیلوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے شعیہ سنی مشیران پر مشتمل امن جرگہ علاقے میں جنگ بندی کےلیے ایک مرتبہ پھر پارہ چنار پہنچ چکا ہے۔ کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ مجیب الرحمان کے گھر پر نامعلوم افراد کی طرف سے میزائل پھینکا گیا جبکہ کرم ملیشاء ٹو ونگ کے صدر دفتر اور تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال صدر کو بھی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تاہم حملوں میں جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل، صدہ، سخی احمد شاہ، علی زئی، بگن، مندوری بنگش، انجرئی، مخزئی، جلیمہ اور علی زئی جبکہ اپر کرم کے علاقوں پیواڑ اور تری منگل کے علاقوں میں فریقین مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق آٹھ روز پہلے دوبارہ شروع ہونے والی اس فرقہ وارانہ تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک پچاس سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ مجموعی طورپر سولہ نومبر سے شروع لڑائی میں دونوں طرف سے تین سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔ صدر مقام پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں گزشتہ آٹھ روز سے بغیر کسی وفقے کے کرفیو نافذ ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید سردی اور پہاڑوں برف بھاری کے باعث لوگ کئی قسم کے بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ پارہ چنار کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ مقامی لوگ سر درد کی گولیاں خریدنے کےلیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں تمام سڑکیں ، تعلیمی ادارے، سرکاری نیم سرکاری دفاتراور بینک گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہنگو اورکزئی امن جرگہ نے انیس دسمبر کو فریقین کے مابین دس جنوری تک ایک تحریری فائربندی کرائی تھی تاہم علاقے میں تین دن خاموشی رہنے کے بعد فریقین کے درمیان ایک بار پھر لڑائی کا آغاز ہوا جو آج آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری11 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: مزید بارہ افراد ہلاک26 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||