کرم ایجنسی: مزید بارہ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ہسپتال ذرائع کے مطابق فریقین کے مابین جاری جھڑپوں میں تین بچوں اور خاتون سمیت مزید بارہ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ان افراد میں ایف سی کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس طرح پانچ دنوں سے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہوگئی ہے۔ لوئر کرم ایجنسی کے صدر مقام صدہ سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ایک مارٹر گولہ ایک سرکاری سکول پر آ کر گرا جس سے وہاں پناہ لیے ہوئے پانچ افراد موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ صدہ ہسپتال کے ایک ڈسپنسر دلدار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچیاں، ایک بچہ، ایک خاتون اور ایک بوڑھا شخص شامل ہیں۔ ان کے مطابق حملے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہپستال میں داخل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بدھ کی سہ پہر لوئر کرم میں سخی احمد شاہ کے مقام پر ایک میزائل گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے علاقوں میں لڑائی شروع ہونے کے بعد زیادہ تر لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ کر بچوں اور خواتین کو سرکاری اور نجی سکولوں میں منتقل کیا ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیسرا واقعہ بھی صدہ سب ڈویژن میں منگل کی شام پیش آیا تھا جب وہاں قائم ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر نامعلوم مقام سے میزائل حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں چوکی پر موجود کرم ملیشاء کے دو اہلکار نیاز اور تازہ گل موقع پر جان بحق ہوئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق منگل کی رات تین افراد شہید خان، امان اللہ اور تاجو کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جو مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس طرح پانچ دن سے جاری جنگ میں مرنے والوں کی تعداد اب پچیس ہوگئی ہے اور لوئر کرم کے کئی علاقوں میں شدید جھڑپیں بدستور جاری ہیں جن میں فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اور خودکار ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ رات متحارب گروہوں نے لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل، صدہ، سنگینہ، خارکلی، علی زئی، بگن اور مخی زئی کے علاقوں میں ایک دوسروں کے مورچوں پر ایک مرتبہ پھر حملے کیے تھے۔ اس کے علاوہ اپر کرم کے علاقوں مقبل اور کونج علی زئی سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں اٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پارہ چنار میں گزشتہ پانچ دنوں سے بغیر کسی وقفے کے کرفیو نافذ ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
علاقے میں تمام سڑکیں، تعلیمی ادارے، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے بند ہیں جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی ترسیل بھی معطل ہے۔ یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے امن جرگہ نے فریقین کے مابین دس جنوری تک ایک تحریری فائربندی کرائی تھی۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود فریقین کے ایک دوسرے پر حملے کیے جس سے حالات ایک با پھر سخت کشیدہ ہوگئے۔ کرم ایجنسی میں تقریباً ڈیڑہ ماہ قبل ایک ہفتہ جاری رہنے والی فرقہ وارانہ فسادات میں سرکاری ذرائع کے مطابق ڈیڑہ سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ چار سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔اس سال کرم ایجنسی میں فریقین کے مابین یہ دوسری لڑائی ہے۔ | اسی بارے میں پارہ چنار: چوالیس افراد کی تدفین21 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی، سڑکیں ابھی تک بند25 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری11 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں عارضی فائر بندی19 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان لوئر کُرم میں لڑائی کا دائرہ کار وسیع24 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں عارضی جنگ بندی12 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||