کرم ایجنسی میں عارضی فائر بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے عمائدین پر مشتمل جرگہ کے ایک ماہ کوششوں کے بعد فریقین کے مابین عارضی فائر بندی ہوگئی ہے۔ کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الااسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو شیعہ اور سنی عمائدین نے ایک عارضی معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے بعد دس جنوری تک فریقین کے مابین مکمل فائر بندی ہوگی۔ ان کے مطابق اس دوران اگر کسی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ان سے ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ پولیٹکل ایجنٹ نے بتایا کہ اعتماد سازی کے لیے ٹل پارہ چنار شاہراہ کھول دی جائےگی اور لوگوں کی آمد ورفت قافلوں کی شکل میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ہوگی جبکہ کچھ دنوں کے بعد شاہراہ عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائےگی۔ فائر بندی گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے شیعہ اور سنی عمائدین پر مشتمل مشترکہ جرگہ کے کئی ہفتوں کوششوں کے بعد عمل میں لائی گئی۔ واضح رہے کہ ایک ماہ قبل کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے جو تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہے تھے۔ تاہم بعد میں فوج نے مداخلت کرکے لڑائی عارضی طورپر بند کروا دی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس لڑائی میں تیرہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور چارسو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان شورش زدہ علاقے، انتخابی امیدوار07 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی، سڑکیں ابھی تک بند25 November, 2007 | پاکستان پارہ چنار: چوالیس افراد کی تدفین21 November, 2007 | پاکستان پارہ چنارجنگ بندی: فوج کا کنٹرول20 November, 2007 | پاکستان کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری11 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||