پارہ چنارجنگ بندی: فوج کا کنٹرول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں قبائلی جرگے کی طرف سے فریقین کے مابین فائربندی کرانے کے بعد صدرمقام پارہ چنار میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے شہر میں ہلاک ہونے والے کی لاشیں اکٹھا کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی جانب سے تشکیل کردہ اورکزئی ایجنسی اور ہنگو کے عمائدین پر مشتمل قبائلی جرگے کی طرف سے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے بعد زیادہ تر علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو فوج نے پارہ چنار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اکھٹا کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک پارہ چنار شہر میں انتظامیہ نے اٹھارہ لاشیں برآمد کی ہے۔ دوسری طرف علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کچھ علاقوں سے بدستور فائرنگ کی اطلاعات مل رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لوئر کرم کے علاقے صدہ، بالش خیل اور دیگر علاقے پیواڑ اور تری مینگل میں فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر وقفے وقفے سے حملے کررہے ہیں تاہم اس کی شدت گزشتہ دنوں کے مقابلے میں کم بتائی جارہی ہے۔ جرگے کے ایک رکن حسین علی شاہ الحسینی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں دن دس بجے کے بعد مکمل جنگ بندی ہے۔ تاہم دور دراز کے علاقوں میں مورچہ زن فریقوں کو جنگ بندی کی اطلاع ملنے میں کچھ وقت لگے گا اور اسی وجہ سے بعض علاقوں سے فائرنگ کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ جرگے میں شامل اورکزئی ایجنسی کے سرکردہ قبائلی ملک جاجی خان افضل کا کہنا ہے کہ ’کرم ایجنسی میں اس سال اپریل میں جھڑپوں کے بعد جس جرگہ نے جنگ بندی کرائی تھی اگر حکومت اس کی تجاویز پر عمل درآمد کراتی تو آج علاقے میں یہ حالات دوبارہ پیش نہ آتے‘۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لوئر کرم کا علاقے دریا پار میں ایک میزائل گرنے سے فرنٹیر کور کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پارہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ جس میں دونوں طرف سے سو کے قریب لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دو سو سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ اس سال چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ | اسی بارے میں فرقہ وارانہ تشدد میں اڑتیس ہلاک17 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات16 November, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں12 April, 2007 | پاکستان پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان کالعدم مذہبی تنظیم کے رہنما گرفتار08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||