لوئر کُرم میں لڑائی کا دائرہ کار وسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کی تحصیل لوئر کرم میں پیر کے روز متحارب گروہوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں لڑائی کا دائرہ دیگر کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ سیکرٹری فاٹا سیکیورٹی شکیل قادر نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر لوئر کرم کے صدر مقام صدہ شہر کے مضافات میں ہونے والی لڑائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا اور لڑائی کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ اتوار کے روز شروع ہونے والی لڑائی میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے چار افراد کو لوٹ مار کے شبے میں اُن کے اپنے ہی قبیلے کے مشترکہ لشکر نے ایک کاروائی کے دوران ہلاک کر دیا۔ پیر کے روز لڑائی کا دائرہ کار صدہ کے مضافات اور بالیشخیل کے علاقے سے بڑھ کر صدہ سے بیس سے پچیس کلومیٹر مشرق کی جانب واقعہ علاقوں بشمول علی زئی، انذری، ششو اور جندڑی تک پھیل گیا جہاں اطلاعات کے مطابق متحارب گروہوں کے ارکان نے خود کار اسلحے سے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا۔ ایک سے زیادہ ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق لڑائی خاصی شدید تھی۔ دریں اثناء حکومت کی جانب سے متحارب گروہوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے بنائے گئے چودہ رکنی قبائلی امن جرگہ نے، جس نے صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی کو پانچ دسمبر سے لے کر اب تک امن کی بحالی کے لیےہونے والی بات چیت اور اس پر پیش رفت کے حوالے سے اپنی رپورٹ اتوار کے روز پیش کی، حکومت اور فوج سے کہا ہے کہ کُرم ایجنسی میں امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں سڑک کو محفوظ بنایا جا ئے۔
امن جرگہ کے رکن حاجی خان افضل، جو امن جرگہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ کل ہی کرم ایجنسی سے لوٹے ہیں، کے مطابق امن جرگہ نے حکومت سے کہا ہے کہ دس جنوری تک سڑک کو محفوظ بنایا جائے اور حکومت کے اختیار کو یقینی بناتے ہوئے ذمہ داروں کو پکڑا جانا چاہیے تا کہ عوام کا حکومت میں اعتماد بحال ہوسکے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سڑک کو محفوظ بنایا جانا نہایت ضروری ہے کیونکہ کچھ عرصے بعد لوگ ایک دوسرے کو کھانے دوڑیں گے کیونکہ پاراچنار کا بازار پہلے لوٹ لیا گیا ہے اور خوراک کی ترسیل نہ ہونے سے لوگ نہایت مشکلات کا شکار ہیں۔‘ اُنہوں نے کہا کہ متحارب گروہوں کے عمائدین تو بحالیِ امن میں نہایت سنجیدہ ہیں تاہم ایسے عناصر جو بےروزگاری کے مارے ہوئے ہیں یا بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وہی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ’ ایک گروپ کا الزام ہے کہ اُن کے مخالفین نے طالبان کی مدد لی ہوئی ہے اور افغانستان سے حالات خراب کرائے جا رہے ہیں جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ مہدی ملیشیا تشکیل دی گئی ہے۔‘ حاجی خان افضل کا کہنا تھا کہ بحثیتِ جرگہ ممبر انہوں نے فوج کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتوں کے دوران کہا ہے کہ متاثرہ علاقے میں فوج کی تعداد بڑھائی جائے اور فرنٹیئر کور کے دو یونٹ، جن کو پارا چنار سے ہٹایا گیا ہے، اُنہیں واپس تعینات کیا جائے تاکہ سڑک کو محفوظ بنایا جاسکے۔ کرم ایجنسی میں مزید فوج کی تعیناتی کے حوالے سے سیکریٹری فاٹا سیکیورٹی شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو تین روز پہلے ہی کُرم ایجنسی فوج کا ایک یونٹ بھیجا گیا ہے جبکہ مزید فوج بھیجنے کے حوالے سے گفت وشنید جاری ہے اور حکومت اس حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں عارضی فائر بندی19 December, 2007 | پاکستان کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری11 December, 2007 | پاکستان کوہلو: ’آپریشن اور گرفتاریاں جاری‘09 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||