BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 December, 2007, 05:17 GMT 10:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ

 کرم ایجنسی
کرم ایجنسی میں جنگ بندی کے بعد تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

علاقے میں گھیراؤ، جلاؤ اور لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے ہیں جبکہ تازہ واقعہ سے ایجنسی میں حالات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ پانچ دن قبل گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ اورکزئی اور ہنگو کے شیعہ سنی عمائدین پر مشتمل جرگہ نے ایک ماہ کوششوں کے بعد فریقین کے مابین دس جنوری تک عارضی فائربندی کرائی تھی۔

کرم ایجنسی میں جنگ بندی کے بعد تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہفتے کو صدر مقام پارہ چنار میں اچانک مسلح افراد بازاروں میں نکل آئے اور وہاں قائم دوکانوں اور گھروں پر ہلہ بول دیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق مسلح افراد نے فوج اور ملیشیا فورسز کی موجودگی میں پہلے گھروں اور دوکانوں کو لوٹا اور پھر انہیں آگ لگا دی۔ امن جرگہ کے ایک رکن حاجی خان افضل نے تصدیق کی کہ اکبر خان سرائے، عثمانیہ مارکیٹ اور کچھ دیگر علاقوں میں شرپسند عناصر کی جانب سے گھروں اور دوکانوں کو آگ لگائی گئیں تاہم تمام گھر لوگوں نے پہلے ہی خالی کیے ہوئےتھے جبکہ دوکانیں بھی بند تھیں۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بازاروں میں گھیراؤ جلاؤ کے واقعات دوپہر سے لے کر شام تک جاری رہے جبکہ اس دوران سکیورٹی فورسز اور بازار کی نگرانی کے لیے قائم مقامی کمیٹیوں کی طرف سے مسلح افراد کو بار بار روکنے کی کوشش کی گئی۔

ایجنسی میں حالات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہوگئے ہیں

مقامی لوگوں کے مطابق پارہ چنار میں رات بھر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں چار افراد کے ہلاک اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کی مابین فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

تازہ واقعہ سے علاقے میں حالات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہوگئے ہیں جبکہ اس کے اثرات قریبی علاقوں پر پڑنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے جو تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہے تھے۔ تاہم بعد میں فوج نے مداخلت کر کے لڑائی عارضی طورپر بند کروا دی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس لڑائی میں تیرہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور چار سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد