کرم:لڑائی جاری، امن مذاکرات شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں چھ روز سے جاری شدید لڑائی میں مزید چھ افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ گزشتہ روز کوہاٹ کے نواح میں ہونے والے تشدد کے بعد ہنگو کوہاٹ شاہراہ پر فریقین نے ایک دوسرے کے ساٹھ کے قریب افراد کو یرغمال بنایا ہے۔ شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کےلئے بند ہے۔ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ متحارب گروہوں کے مابین لڑائی کو روکنے کےلیے قبائلی جرگوں نے کام شروع کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ شیعہ اور سنی قبائل کے دو الگ الگ جرگے صدر مقام پارہ چنار اور صدہ سب ڈویژن میں طلب کرنے کے بعد ان سے علاقے میں لڑائی روکنے کےلیے بات چیت کررہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ میں توری، بنگش، علی شیرزئی، مسو زئی، خوئیداد خیل اور پاڑہ چمکنی کے مشران شرکت کررہے ہیں۔ سیکرٹری سکیورٹی برائے قبائلی علاقہ جات شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کرم ایجنسی میں حالات کنٹرول کرنے کےلیے تمام ممکنہ طریقوں پر غور کررہی ہے۔ دوسری طرف لوئر کرم کے علاقوں میں فریقین کے مابین رات بھر شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں متحارب گروہوں نے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ شام سخی احمد شاہ کے علاقے میں کچھ لوگ ایک جنازے میں شریک تھے کہ ایک میزائل آکر گرا جس سے وہاں موجود تین افراد عنجار گل، خیال مرجان اور شہید موقع پر ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز اے ون ماڈل سکول پر مارٹر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تین افراد نے ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔ اس طرح چھ دن سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تیس ہوگئی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں چھ روز سے بغیر کسی وقفے کے کرفیو نافذ ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ علاقے میں تمام سڑکیں، تعلیمی ادارے، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر بھی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بند پڑے ہیں۔ ادھر بدھ کی شام جنوبی شہر کوہاٹ کے نواح میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں تین افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں بھی حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعہ کے بعد ہنگو کوہاٹ شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کےلیے بند ہوگئی جبکہ استرزئی اور محمد زئی کے علاقوں میں بعض مشتعل افراد نے سڑکوں پر نکل کر گاڑیوں میں سوار تقربناً ساٹھ کے قریب افراد کو یرغمال بنایا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی بازیابی کےلیے مقامی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ بدھ کی شام کوہاٹ کے نواح میں نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے مسافروں سے بھری ایک سوزوکی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری11 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: مزید بارہ افراد ہلاک26 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||