ہنگو فسادات: تاجر مسائل کا شکار ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور کے جنوب مغرب میں واقع ہنگو میں نو فروری کوایک خودکش بم دھماکے اور فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے شہر کا مرکزی بازار تین مہینے سے مکمل طور پر بند ہے جبکہ دوسری جانب مقامی تاجروں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ ہنگو شہر پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی تھی جب نو فروری کو دسویں محرم کووہاں پر خود کش بم دھماکہ ہوا۔ دھماکے کےفوری بعد شہر میں گھیراؤ جلاؤ کے واقعات شروع ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ ان جھڑپوں میں سات سو کے قریب دکانیں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔ کئی تاجر علاقہ چھوڑ کر دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ انجمن تاجران ہنگو کے صدر خید ا کبر الزام لگاتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداوں کے اہل کار بازار میں موجود تھے اور ان کے سامنے دکانوں کو آگ لگائی گئی۔ ’ اگر پولیس والے ایک آنسو گیس کا گولہ بھی پھینکتے تو شاید اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا‘۔ ضلع ہنگو کے ڈی سی او امیر الدین شاہ نے رابطہ کرنے ہر بی بی سی کو بتایا کہ کس دن دھماکہ ہوا اس دن وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ ’میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ دھماکے کے بعد جب لوگ دکانیں جلا رہے تھے تو پولیس نے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا‘۔ ان فسادات میں چھوٹے اور بڑے تاجر دونوں کو بھاری مالی نقصان ہوا تاہم زیادہ تر بڑے تاجروں نے دوسرے جگہوں پر دوبارہ کاروبار شروع کردیا ہے جبکہ چھوٹے تاجر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ظفرعالم بھی ایک ایسے ہی تاجر ہیں۔ فسادات میں بقول ان کے پہلے ان کی د کان کو لوٹا گیا پھر آگ لگائی گئی۔
ظفر عالم کا کہنا ہے کہ جو چھوٹے موٹے تاجر تھے وہ تو ان فسادات کے بعد سے پاگل ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں رہا، نہ حکومت نے ان کو ابھی تک کوئی معاوضہ دیا ہے اور نہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہے۔’ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جسے ہم اس ملک کے باشندے ہی نہیں ہیں‘۔ گھیراؤ جلاؤ کے ان واقعات میں عام لوگوں کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی بیس دوکانوں کے جلنے کے علاوہ ان کے تین ٹریکٹر اور فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی کو بھی آگ لگائی گئی۔ ٹریکٹروں کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہنگو شہر میں اب صفائی کا نظام بھی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ تحصیل میونسپل افسر ہنگو عبدالقادر کا کہنا ہے کہ فسادات کے بعد سے ان کے محکمے کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہورہاہے ۔ ’ہمیں تہہ بازاری ، آڈہ ٹیکس، سبزی منڈی ، منڈی مویشاں اور دیگر مدوں میں ہر ماہ لاکھوں روپے کی آمدن ہوتی تھی لیکن جب سے یہ واقعہ ہوا ہے ہمیں کوئی پیسہ نہیں مل رہا ہے‘۔ ان جھڑپوں میں کتنا نقصان ہوا اس بارے میں انتظامیہ اور تاجر برادری کے الگ الگ موقف ہیں لیکن ہنگو کے ضلعی ناظم غنی الرحمان کو اس بات کی شکایت ہے کہ مقامی تاجروں کا جو نقصان ہوا اس سلسلے میں انہوں نے معاوضے کے لیے جو دعوے دائر کیے ہیں وہ نقصانات سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غنی الرحمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث تاجروں کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تاخیر میں تاجر برادری بھی برابر کے ذمہ دار ہے۔ ’ایک مٹھائی والے نے ایک کروڑ ورپے کے معاوضے کا دعوی کیا ہے حالانکہ ایک کروڑ روپے کی مٹھائی تو پورے صوبہ سرحد میں دستیاب نہیں‘۔ تاجروں کے نمائندوں کے مطابق اب تک ایک ارب اور چودہ کروڑ روپے کے کلیم دائر کیے گئے ہیں۔
ہنگو بازار کے علاوہ شہر کے تمام سرکاری تعلیی ادارے بھی ابھی تک بند ہیں یہ کب کھولیں گے اس کا جوا ب تو صرف شعیہ سنی ہی دے سکتے ہیں۔ ادھر فسادات کو ہوئے تین مہینے پورے ہوگئے ہیں لیکن شہر میں ابھی بھی غیر یقینی کی سی کیفیت ہے۔ فوج اور نیم ملیشیا کے دستوں نے پہاڑوں پر بدستور مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہنگو میں اس سے پہلے بھی تین مرتبہ فرقہ وارانہ تشدد ہوا ہے جس میں درجنوں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس مسلے کو فوری اور مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا تو مسقبل میں اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک09 February, 2006 | پاکستان ’ہنگو: میدان جنگ کا ایک منظر‘10 February, 2006 | پاکستان ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا11 February, 2006 | پاکستان ہنگو میں حالات بدستور کشیدہ13 March, 2006 | پاکستان ہنگو میں پہیہ جام ہڑتال09 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||