ہنگو میں حالات بدستور کشیدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر ہنگو میں یوم عاشورہ کے موقعہ پر خودکش حملے اور بعد میں ہونے والے فسادات میں ہوئے بھاری جانی و مالی نقصانات کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن حالات ابھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ شہر کا مرکزی بازار، تعلیمی ادارے اور سڑکیں آج بھی بند ہیں جبکہ لوگ بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ یوم عاشور کے موقعہ پر ہنگو شہر میں جو ایک ماہ قبل ہوا وہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ماتمی جلوس پر خودکش حملے اور بعد میں ہنگاموں میں چالیس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے جبکہ سینکڑوں دوکانیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔ ہنگو کے ایک دوکاندار بشارت خان سے جب تاجروں کی جانب سے دوکانیں کھولنے سے انکار کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ’ اب تک نہ تو وزیرِ اعٰلی، گورنر یا مرکزی حکومت کے کسی اعلی اہلکار نے شہر کا دورہ کیا ہے اور نہ حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کی ہے یا جن کا نقصان ہوا ہے وہ پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔ ہنگو سے رکن صوبائی اسمبلی عتیق الرحمان نے اس تاثر کو درست قرار دیا کہ حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیئے امدادی رقم کا اعلان تو درست قدم ہے تاہم جن دوکانداروں کا لاکھوں کا نقصان ہوا ہے ان کے لیئے کچھ نہیں گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ تاجروں کا ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ’اگر یہ نقصان پورا کر دیا جائے تو حالات معمول پر آسکتے ہیں۔ تاہم جب تک فوج وہاں موجود ہے تو حالات معمول پر ہیں۔ اس کے جانے کے بعد حالات پھر خراب ہوسکتے ہیں کیونکہ کشیدگی بدستور برقرار ہے‘۔ ہنگو کے مضافاتی علاقوں میں اطلاعات ہیں کہ مقامی لوگوں نے اپنی حفاظت کے نکتہ نظر سے اپنی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔ عتیق الرحمان نے بتایا کہ ان علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ خوراک کی قلت بھی ہے۔ صوبائی حکومت نے ہلاک شدگان اور زخمیوں کے لئے معاوضے کا اعلان تو کیا ہے لیکن دوسری طرف تاجروں کو بلاسود قرضے دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ تاجروں کو بظاہر قبول نہیں۔ وزیرِاعلی سرحد اکرم خان درّانی سے جب پوچھا گیا کہ حالات معمول پر کیوں نہیں آ رہے تو انہوں نے ان تاجروں کو بیس سے ایک لاکھ روپے کا فوری بلاسود قرضہ دینے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک سڑک پر تعمیر بھی بغیر کابینہ کی اجازت کے انتظار کے شروع کر دی گئی ہے۔ تاجروں کی کاروبار نہ کھولنے کے مسئلے پر وزیرِاعٰلی کا موقف تھا کہ انہوں نے ان سے دوکانیں کھولنے کی درخواست کی ہے تاکہ زندگی معمول پر آسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور میں بھی ہنگاموں میں دوکانوں کا نقصان ہوا تاہم کوئی ہمیشہ کے لئے بند کرکے تو نہیں بیٹھ گیا‘۔ دوسری جانب واقعہ کی عدالتی اور پولیس تحقیقات کا بھی ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے مشتبہ خودکش حملہ آور کی تصاویر ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر کروائیں لیکن اس کے بات سے بات آگے نہیں بڑھی ہے۔ | اسی بارے میں نعروں کی سیاست کب تک؟11 February, 2006 | پاکستان ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا11 February, 2006 | پاکستان ’ہنگو: میدان جنگ کا ایک منظر‘10 February, 2006 | پاکستان ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک09 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||