BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 August, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو جرگے میں فائرنگ، 7 ہلاک

فائل فوٹو
ہلاک ہونے والوں میں علماء کرام بھی شامل ہیں
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک قبائلی جرگے میں فریقین کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئےہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں متحدہ مجلس عمل کے ضلعی صدر مفتی دین اصغر کے چچا زاد بھائی بھی شامل ہیں۔ ہنگو کے نائب ضلعی ناظم حاجی گل کریم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی شام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے ساتھ واقع بندوبستی علاقے زرگری میں پیش آیا۔

ان کے مطابق قبائلی عمائدین اور علماء کرام پر مشتمل امن کمیٹی کے ممبران کا گل معید نامی ایک مسلح گروہ کے سربراہ سے جرگہ جاری تھا کہ اس دوران فریقین کے مابین کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس سے دونوں طرف سے مسلح افراد نے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس میں سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے ضلعی صدر مفتی دین اصغر کے چچا زاد بھائی نور اصغر ، علماء کرام اور مسلح گروہ کے سربراہ گل معید اور ان کے بیٹے شامل ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن کمیٹی میں اکثریت مقامی طالبان کی ہے جنہوں نے علاقے میں حال ہی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیاں شروع کر رکھی ہے۔ زخمیوں کو ہنگو کے مختلف ہسپتالوں میں منقتل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ زرگری اورکزئی ایجنسی کی سرحد پر واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں پر پولیس کی رِٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد