ہنگو: کرفیونافذ، جلوس پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہنگو شہر میں کرفیو کے نفاذ اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی خاطر مقامی انتظامیہ کی طرف سے علاقے میں عاشورۂ محرم کے موقع پر علم اور ذوالجناح کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی۔ ہنگو کے ضلعی رابطہ افسر فخر عالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح راکٹ اور مارٹر حملوں کے بعد شہر میں امن وامان کی صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی تھی جس کے بعد فوج نے فوری طورپر علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کےلئے مقامی انتظامیہ کو مجبوراً علم اور ذوالجناح کے جلوسوں کو روکنا پڑا جبکہ ماتم اور دیگر سرگرمیوں کو امام بارگاہوں تک محدود رکھا گیا۔ سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ شہر میں اس قسم کے حالات پیدا ہوگئے تھے جس میں ماتمی اور دیگر جلوسوں کی اجازت دینا حکومت کے لیے ایک بڑا سکیورٹی رسک بن سکتا تھا۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امام بارگاہ پر راکٹ حملے اور فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے اطراف میں رہنے والوں لوگوں نے علاقے میں ممکنہ جھڑپوں کے پیش نظر بچوں اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے کرفیو پر سخت عمل درآمد کیا گیا ہے اور جن علاقوں میں صورتحال خراب ہو سکتی تھی وہاں پر کسی کو گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ عاشورہ کی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے دو افغان مہاجر بتائے جا رہے ہیں جبکہ زخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح ساڑھے پانچ کے قریب اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا ایک راکٹ قومی امام بارگاہ محلہ خان باڑی میں آکرگرا جس سے وہاں پر موجود دس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ راکٹ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایک ماتمی جلوس امام بارگاہ میں داخل ہورہا تھا تاہم جلوس میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ دو روز پہلے پشاور میں خود کش حملے کے بعد سے پورے ملک میں عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ پیر کو بنوں امام بارگاہ پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد علاقے میں کئی جگہوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور علاقے میں کچھ مارٹر گولے بھی گرے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال فروری کے مہینے میں ہنگو بازار میں عاشورہ کے دن خودکش حملے اور فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ چھ سو زائد دوکانوں کو جلایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان ’پشاور حملہ آور کا سراغ نہیں ملا‘29 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکے کے عینی شاہد28 January, 2007 | پاکستان پشاور: بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک27 January, 2007 | پاکستان ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ21 January, 2007 | پاکستان ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا11 February, 2006 | پاکستان ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||