ہنگو: جھڑپوں کے بعد فائربندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلاع ہنگو میں جمعہ کوجشنِ نوروز کی تقریب پر ہونے والے حملے اور بعد میں فریقین کے درمیان ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک جبکہ اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم جرگہ فریقین کو جنگ بندی پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ دوسری طرف شہر میں دوسرے دن بھی کرفیو بدستور برقرار ہے اور بازار سمیت تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر مکمل طور بند ہیں۔ ہنگو کے ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی دوپہر جشنِ نوروز کی ایک تقریب پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کے بعد شیعہ اور سنی مسالک کے ماننے والوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ایک سرکاری بینک کے چوکیدار اور افغان مہاجر سمیت چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ اٹھائیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شیعہ اور سنی سربراہوں پر مشتمل جرگہ نے جمعہ کی رات آٹھ بجے فریقین کو جنگ بندی پر رضا مند کرالیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا ہے۔انکے مطابق شہر میں کرفیو بدستور برقرار ہے جبکہ بازار، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فوج نے شہر کے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹر بھی پہنچ چکے ہیں۔ ناظم کے بقول سنیچر کو ڈی سی او کے دفتر میں شیعہ اور سنی راہنماؤں کے درمیان جرگہ ہورہا ہے جس میں دیر پا امن کے لیے مزید بات چیت کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ہنگو فرقہ وارانہ لحاظ سے ایک حساس ضلع ہے اور یہاں پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں لیکن کئی سالوں کے بعد پہلی مرتبہ نوروز کے موقع پر منعقدہ تقریب کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو میں فرقہ وارانہ تشدد تاریخی پس منظر22 March, 2008 | پاکستان ہنگو،خیر پور میں کشیدگی21 March, 2008 | پاکستان ہنگو: مقابلے کے بعد ’طالبان‘ گرفتار16 February, 2008 | پاکستان ہنگو میں کرفیو، فائرنگ سے2ہلاک21 January, 2008 | پاکستان عاشورہ پر سخت حفاظتی انتظامات19 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||