BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 March, 2008, 00:56 GMT 05:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو میں فرقہ وارانہ تشدد تاریخی پس منظر

ہنگو میں فرقہ واریت اب ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں تقریباً پچیس سال قبل زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی ملکیت پر شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اب ایک ایسے موڑ پر پہنچے چکے ہیں جہاں ان کا مستقبل قریب میں خاتمہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

دوسری طرف ہنگو کے عوام بھی آئے دن کی کشیدگی سے اتنے خوف زدہ اور مایوس ہوچکے ہیں کہ اب تو امن کی باتیں کرنے والے لوگ بھی اس سوچ پر رضامند دکھائی دیتے ہیں کہ روز روز کے واقعات کی بجائے اب فیصلہ کن جنگ ہونا چاہیے تاکہ یہ معاملہ ہمیشہ کےلئے ایک طرف دفن ہوجائے۔

دو لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہنگوشہر میں 1980 میں اولس دروازہ کے مقام پر علاقے کی دو باآثر کمیونٹیز کے مابین زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی ملکیت پرتنازعہ کھڑا ہوا اور لڑائی ہوئی جسے بعد میں فرقہ واریت کا رنگ دیا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب ایران میں نیا نیا اسلامی انقلاب آیا تھا اور ایک اور پڑوسی ملک افغانستان میں بھی روسی افواج کے خلاف مزاحمت کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان میں فرقہ و اریت کی لہر کو پروان چڑھانے میں ان دو ممالک میں تبدیلیوں کو کسی حد تک ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔

ہنگو میں پہلی لڑائی کے بعد امن معاہدہ ہوا جو کافی حد تک موثر ثابت ہوا جس کی وجہ سے تقریباً اٹھارہ سال تک علاقے میں امن قائم رہا۔ لیکن 1998 میں علاقے میں فرقہ واریت نے دوبارہ سر اٹھایا اور بازار میں مسلح افراد کی طرف سے ایک دوسرے پر فائرنگ سے ہلاکتیں ہوئیں۔

ہنگو میں محرم کے دوران کشیدگی بڑھ جاتی ہے

یہ وہ وقت تھا جب ملک میں شیعہ اور سنی تنظیمیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور سپاہ صحابہ پاکستان قائم ہوچکی تھیں اور آمریت کے دور میں نشوونما پانے والا فرقہ واریت کا پودا تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

دو ہزار ایک میں ہنگو شہر میں نامعلوم مسلح شخص کی طرف سے تین افراد کو قتل کرنے کے بعد پھر فسادات شروع ہوئے اور جشن نوروز کے موقع پر بھی جھڑپوں میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس لڑائی کے بعد لوگوں نے پہلی مرتبہ ہنگو سے نقل مکانی شروع کی اور دوسرے شہروں میں آباد ہونے لگے۔

پھر دوہزار چھ میں یوم عاشورہ کےجلوس پر نامعلوم خودکش حملہ کیا گیا جس میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد شہر میں گھراؤ جلاؤ کے واقعات میں چھ سے زائد دکانوں کو نذرآتش کیا گیا۔

یہ پہلہ موقع تھا کہ فریقین نے مورچوں سے نکل کر ایک دوسرے کی دکانوں پر حملے کئے۔ اس واقعہ کے بعد ہنگو میں کشیدگی اور بے یقینی نے ایک مستقل شکل اختیار کرلی۔

دوہزار سات اور آٹھ میں ایک بار پھر امام بارگاہ اور ماتمی جلوس پر فائرنگ کی گئی جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ اب ہنگو میں صورتحال یہ ہے کہ جب بھی محرم کا مہینہ آتا ہے تو علاقے میں دو تین ماہ تک مستقل کشیدگی رہتی ہے۔

اس کے علاوہ ہنگو کے آس پاس یا ملک کے کسی حصے میں فرقہ واریت کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے میں ہنگو میں ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں۔

ہنگو میں کاروبار بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے جبکہ تعلیمی ادارے کشیدگی کی وجہ سے سال میں زیادہ تر بند رہتے ہیں۔ علاقے سے ہزراوں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔

علاقے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجزیہ نگار محمد کمال کا کہنا ہے کہ علاقے کے عوام روز روز کے جنگ و جدل سے اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ اب تووہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سوچ پر مائل نظر آتے ہیں کہ فیصلہ کن لڑائی ہونی چاہیے تاکہ آئے دن کے واقعات کا خاتمہ ہوسکے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوجانے کے بعد اس لڑائی نے بھی اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے اور اس میں اب کئی گروہ شامل ہوگئے ہیں۔

ہنگو میں حکومت کی عمل داری بظاہر نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضلع کے حدود تین قبائلی ایجنسیوں سے ملحق ہونے کی وجہ سے وہاں بھاری اسلحہ فریقین کے پاس وافر مقدار میں موجود ہے۔ ہر بار لڑائی میں بھاری ہتھیاریوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے لیکن گزشتہ پچیس سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے کسی مسلح گروہ کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران کوئی قابل ذکر گرفتاری بھی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی کو سزا سنائی گئی ہے۔

پہلے امن معاہدے ہوتے رہے اور جس پر عمل درآمد بھی کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ دس سالوں کے دوران فریقین کے درمیان کوئی موثر امن معاہدہ عمل میں نہیں لایا جاسکا ہے۔ ہر مرتبہ عارضی فائر بندیاں کی جاتی ہیں جو چند ہفتوں کے بعد ٹوٹ جاتی ہیں۔

حکومت کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ ہر بار جھڑپیں ہوتی ہیں تو اعلی حکومتی اہلکار مسلح افراد کے مشران کو لڑائی بند کرنے کےلئے منت سماجت کرتے ہیں جس سے بظاہر مخالف گروہوں کی طاقت میں کمی کی بجائے مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

علاقے میں حکومت کی طرف سے مسئلے کےحل کےلئے سیاسی عزم کی بھی شدید کمی رہی ہے۔ حکومت کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ مسائل کے حل کےلئے ہنگو کے مشران کو تو بھیجتی رہی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں لیکن ہنگو کی سطح پر مسئلے کے حل کےلئے کوئی سنجیدہ کوشش تاحال دیکھنے کو نہیں ملی ہے جبکہ مشران بھی اپنا مسئلہ حل کرانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد