BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو،خیر پور میں کشیدگی

ہنگو(فائل فوٹو)
فوج نے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے(فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں جشنِ نوروز جبکہ صوبہ سندھ کے شہر خیر پور میں عید میلاد کے جلوس پر فائرنگ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ حکام نے ہنگو میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ خیر پور میں بھی عوام سے گھروں میں رہنے کو کہا گیا ہے۔

ہنگو میں ہونے والے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت انیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ضلع ہنگو کے ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی دوپہر کو ریلوے روڈ پر واقع جامعہ عسکریہ میں درجنوں افراد جشنِ نوروز کے حوالے سے ایک تقریب میں شریک تھے کہ پہاڑ کی جانب سے ان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ان کے بقول حملہ کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تاہم ہنگو کے نجی ہسپتال کے ایک اہلکار اسرار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اٹھارہ زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے ایک خاتون سمیت دو شدید زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول باقی سولہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ہنگو کے ناظم نے مزید بتایا کہ حملہ کے بعد اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے ماننے والوں کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں کرفیو نافذ کر کے فوج طلب کر لی ہے۔

ہنگو میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں

ان کے مطابق علاقے میں بازار مکمل طور پر بند ہے جبکہ فوج نے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے دونوں مسالک کے دس رکنی امن جرگہ نے اپنی کوششیں شروع کردی ہیں۔

واضح رہے کہ ہنگو فرقہ وارانہ لحاظ سے ایک حساس ضلع ہے اور یہاں پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں لیکن کئی سالوں کے بعد پہلی مرتبہ نوروز کے موقع پر منعقدہ تقریب کو حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر سندھ کے ضلع خیرپور میں مذہبی تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں اور پولیس نے لوگوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عید میلادالنبی کے حوالے سے سندھ کے ضلع خیرپورشہر میں سپاہِ صحابہ کا جلوس جیسے ہی ختم ہوا تو شیعہ علاقہ نئوگوٹھ سے ان پر فائرنگ کی گئی جس پر جوابی فائرنگ بھی ہوئی۔

شیعہ اور سنی گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا۔ پولیس نےفریقین کے دس افراد کو حراست میں بھی لے لیا۔

یاد رہے کہ جمعہ کو عالم اسلام عید میلادالنبی، مغربی چین، ترکی، عراق، ایران، افغانستان اور بعض وسط ایشیائی ممالک کے باشندے شمسی سال کے آغاز اور بہار کے آمد کے موقع پر نوروز، مسیحی برادری گڈ فرائیڈے اور ہندو اور سکھ مذہب کے پیروکار رنگوں کا تہوار ہولی منا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت
05 February, 2008 | پاکستان
کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری
01 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد