BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 January, 2008, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری

 کرم ایجنسی
کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد علاقے میں سکیورٹی اداروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف تشکیل کردہ ہنگو اور کزئی امن جرگہ نے علاقے میں فوری فائر بندی کےلیے کوششیں تیز کر دی ہے۔

دوسری طرف متحارب گروہوں کےمابین دس روز پہلےشروع ہونے والی جھڑپیں بدستور جاری ہیں جبکہ تازہ لڑائی میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

کرم ایجنسی سے ملنےوالی اطلاعات میں پولیٹکل انتظامیہ کےمطابق گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی کے شعیہ سنی عمائدین پر مشتمل امن جرگہ نے فریقین سے دو الگ الگ مقامات پر مذاکرات کا اغاز کر دیا ہے۔

جرگہ کے ایک رکن حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ اراکین نے اور پیر اور منگل کو صدر مقام پارہ چنار اور صدہ میں اہل تشیع اور اہل سنت کے بزرگوں سے علاقے میں فوری جنگ بندی کے حوالے سے الگ الگ مذاکرات کئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی اور عنقریب اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔

حاجی خان افضل نے تجویز دی ہے کہ جب تک حکومت کی طرف سے علاقے میں فریقین کےدرمیان طے پانے والےمعاہدوں پر عمل درآمد نہیں کرایا جاتا، ایجنسی میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔

دوسری طرف لوئر کرم کے زیادہ تر علاقوں میں دس دن پہلےدوبارہ شروع ہونے والی جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔تاہم تازہ لڑائی میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہے۔

معاہدوں پر عمل درآمد
جب تک حکومت کی طرف سے علاقے میں فریقین کےدرمیان طے پانے والےمعاہدوں پر عمل درآمد نہیں کرایا جاتا، ایجنسی میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔
جرگہ کے ممبرحاجی افضل

سرکاری ذرائع کےمطابق لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل، صدہ، سنگینہ، علی زئی، بگن، مندوری بنگش، مینگک اور مخزئی جبکہ آپر کرم کے علاقوں مقبل، نستی کوٹ، پیواڑ اور تری منگل میں متحارب گروہ مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کےمطابق لوئر کرم میں گزشتہ دو دنوں کے دوران لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے۔

صدر مقام پارہ چنار میں گزشتہ دس دنوں سے بغیر کسی وقفے کے کرفیو نافذ ہے جس سےعلاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت کے علاوہ علاقے میں مہنگائی میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پارہ چنار میں سخت سردی اور پہاڑوں پر برف بھاری کی وجہ سے لوگ کئی قسم کے بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں سولہ نومبر کو فرقہ وارانہ تشدت کے واقعات شروع ہوئے تھے جس میں اب تک سرکاری ذرائع کے مطابق ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک اور پانچ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

غیر سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اس سے کہنی زیادہ بتایا جارہا ہے۔

کرم ایجنسی’مذہب کے نام پر‘
کرم ایجنسی کے فسادات اور امن معاہدے
پارہ چنارپارہ چنار کی تباہی
’ایسا لگتا ہے کہ یہاں بڑی جنگ لڑی گئی ہے‘
کرم ایجنسیکرم ایجنسی میں امن
شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ
 پاڑہ چنار (فائل فوٹو)’ہر طرف لاشیں ہیں‘
پارہ چنار میں لڑائی کے عینی شاہد نے کیا دیکھا
اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد