BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 18:25 GMT 23:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت

ہنگو(فائل فوٹو)
’ٹل میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے‘
پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوب میں واقع ضلع ہنگو میں ایک قومی جرگہ نے علاقے میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور جرائم میں اضافہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یکم مارچ تک تحصیل ٹل سے نکل جانے کی مہلت دی ہے۔

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل ٹل میں بنگش قبیلے کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقے کے مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگہ کے ترجمان ملک جمیل خان بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ پچیس سال سے ٹل میں ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین رہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ٹل کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ علاقے میں قائم دو افغان مہاجر کیمپ یکم مارچ تک بند کر کے زمینیں مقامی لوگوں کے حوالے کردیئے جائیں گے۔

ان کے بقول مہاجرین کے آنے کے بعد سے ٹل میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب حد تک جا پہنچی ہے اور پولیس ریکارڈ کے مطابق زیادہ تر جرائم میں افغان باشندے ملوث بتائے جاتے ہیں۔

 سرکاری طورپر ان کیمپوں کو بند کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم آئندہ ماہ متوقع سہ فریقی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں پاکستان میں قائم مختلف کمیپوں کی بندش کے حوالے سے حتمی فیصلے کیے جائیں گے
یو این ایچ سی آر

ملک جمیل کے مطابق ٹل میں دو مقامات پر افغان کیمپ بنائے گئے ہیں جن پر گزشتہ پچیس سال سے مہاجرین قابض ہیں۔ ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم مارچ تک علاقے میں تمام کیمپ ختم کرکے زمینوں کو مقامی لوگوں کے حوالے کیے جائیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل ٹل میں ماموں خوڑے اور توت کچ کے مقامات پر دو الگ الگ افغان مہاجر کیمپ قائم ہیں جن میں مہاجرین کےلئے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی ار کے مطابق سترہ ہزار خاندان عارضی طورپر آباد ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں پاکستان کے سرحد کے ساتھ واقع افغان صوبے پکتیا، پکتیکا، خوست اور گردیز کے باشندے رہائش پذیر ہیں۔یو این ایچ سی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری طورپر ان کیمپوں کو بند کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم آئندہ ماہ متوقع سہ فریقی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں پاکستان میں قائم مختلف کمیپوں کی بندش کے حوالے سے حتمی فیصلے کیے جائیں گے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد