دو ہزار شہری نقل مکانی پر مجبور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے دو ہزار سے زائد عام شہری بےگھر ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف مصالحتی جرگہ اور فوج ابھی تک جنگ بندی کرانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ کرم ایجنسی کے ایک پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر مقام پاڑہ چنار سے گزشتہ کچھ عرصےکے دوران دو ہزار سے زائد شہریوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے جن میں سے کئی افراد نے لوئر کرم اور آس پاس کے علاقوں میں واقع سرکاری عمارات میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ پاڑہ چنار سے نقل مکانی کرنے والے ایک شخص عطا اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے وہاں پر مزید رکنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ان کے مخالف قبیلے نے ان کا گھر بار لوٹ لیا اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ عطا اللہ کے بقول’ ہم انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں اپنے علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔شدید سردی کی وجہ سے ہمارے پاس پہننے اور نہ ہی اوڑھنے کے لیے کوئی چیز موجود ہے‘۔ عطااللہ نے مزید بتایا کہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے تقریباً تین سو گھرانوں نے لوئر کرم کے علاقے صدہ، کوہاٹ، ٹل، پشاور اور حسن ابدال کی طرف نقل مکانی کی ہےجہاں پر انہوں نے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رہائش اختیار کر لی ہے۔ ان کے مطابق’ تمام راستے بند ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں او خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں اور ٹرکوں میں ٹھونس کر محفوظ مقامات تک پہنچایا لیکن یہاں پر اب ہم مہاجرین کی طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ہمارے پاس ایک روپیہ بھی نہیں جبکہ رشتہ داروں سے پیسہ لینے میں شرم آتی ہے‘۔
دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بے گھر ہونے والے ان افراد کے لیے لوئر کرم کے علاقے صدہ میں دو سو سے زائد خیموں کی ایک بستی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے علاوہ متاثرین تک کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی جا رہی ہیں۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ بارہ دنوں سے جاری لڑائی جمعرات کو بھی آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی تاہم مقامی لوگوں کے مطابق لڑائی کی شدت میں گزشتہ دنوں کے مقابلے میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک مقامی صحافی اجمل حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی کی وجہ سے علاقے میں خوردنی اشیاء اور ہسپتال میں ادویات کی قلت پیدا ہوئی ہے جبکہ راستوں کی بندش کی وجہ سے شدید مریضوں کو علاقے سے باہر نہیں لے جایا جاسکتا ہے۔ لوئر کرم میں جاری لڑائی میں ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہو رہی ہیں البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ دنوں کی لڑائی میں اب تک تقریباً پینسٹھ افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق کہ شورش زدہ صدہ، مینگک، علی خیل، بالش خیل ، سنگینہ، بگن اور آس پاس کے علاقوں میں فوج کی موجودگی کے باوجود وہاں پر لڑائی رکوانے میں سنجیدہ اقامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔تاہم حکام کا دعوی ہے کہ فوج نے بعض علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور جلد ہی حالات پر قابو پالیا جائے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانے کی خاطر ہنگو سے شیعہ اور سنی رہنماؤں پر مشتمل ایک سولہ رکنی جرگہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے ماننے والوں کے درمیان تین مرتبہ شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق تقریباً دو سو چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری01 January, 2008 | پاکستان کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل 30 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: مزید بارہ افراد ہلاک26 December, 2007 | پاکستان لوئر کُرم میں لڑائی کا دائرہ کار وسیع24 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||