عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ستر طالبان کے ہمراہ بارہ فٹ کے ایک کمرے میں رکھا گیا |
حکومت اور سوات کے طالبان کے درمیان ہونے والےامن معاہدے کے نتیجے میں ضلع دیر کےتیمر گرہ جیل سے رہائی پانے والے ایک قیدی جان محمد کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مولانا فضل اللہ کا ساتھ دیں گے کیونکہ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے ان کا مؤقف ’برحق‘ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جان محمد کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد انہیں ایک نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا تھا جہاں پر پہلے ہی سے مولانا فضل اللہ کے درجنوں ساتھی قید تھے۔ ان کے مطابق ’رواں سال جنوری میں میں اپنے گھر میں کھانا کھا رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے باہر جاکر دیکھا تو پولیس کے کئی اہلکار موجود تھے جنہوں نے مجھےگرفتار کیا اور سوات پولیس سٹیشن لے گئے جہاں سے بعد میں مجھے ایک نامعلوم مقام منقتل کو کردیا گیا‘۔ جان محمد کا دعویٰ ہے کہ انہیں دیگر تقریباً ستر طالبان کے ہمراہ بارہ فٹ کے ایک کمرے میں رکھا گیا۔ان کے مطابق ’بارہ فٹ کے کمرے میں ہم ستر کے قریب ساتھی بند تھے جن میں سے زیادہ تر کو ہھتکڑیاں پہنائی گئی تھیں جبکہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً دس سے زائد افراد کو لیٹرین میں رکھا گیا تھا‘۔ ان کے بقول ’اس کمرے میں ہم لیٹ نہیں سکتے تھے جسکے نتیجے میں زیادہ تر ساتھیوں کو کمر درد، نزلہ، زکام، بخار اور دیگر بیماریاں لاحق ہوگئیں‘۔ حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بارے میں جان محمد کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھا عمل ہے کیونکہ وہ اپنے علاقے میں امن چاہتے ہیں دہشت گردی نہیں۔ تاہم اس سوال کے جواب کہ کیا وہ اب مولانا فضل اللہ کا ساتھ دیں گے تو انکا کہنا تھا ’ہاں کیوں نہیں، بالکل ساتھ دوں گا کیونکہ مولانا فضل اللہ کا موقف ’برحق‘ ہے‘۔ |