امریکی حملے پر نکتہ چینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان نے ملک کے جنوبی علاقے میں ’یکطرفہ کارروائی‘ پر امریکی افواج کی نکتہ چینی کی ہے۔حکومت کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم ستر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی ٹاسک فورس کے ترجمان کے کےمطابق اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہرات میں مقامی افراد پر اس وقت پر بم گرایا گیا جب وہ تعزیت کے لیے جمع تھے۔ دریں اثناء ایک مقامی رکن پارلیمان نے بتایا کہ افغان سکیورٹی فورسز نے اس حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں لوگوں پر بھی فائرنگ کی۔انہوں نے بتایا کہ اس فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امریکی حملے میں 78 شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے۔ لیکن ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ایک ٹیم اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نےتحقیقات شروع کروا دی ہیں اور متعدد وزارتوں کو حکم دیا ہے کہ’شہری ہلاکتوں کو روکنے کا ایک جامع منصوبہ‘ تیار کریں جو اتحادی افواج کے حوالے کیا جائے گا۔ افغانستان میں امریکی فوج نے ہرات میں آپریشن کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ آپریشن دہشگردوں کے خلاف تھا جس کے دوران تیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ نے کہا کہ اس آپریشن میں ہوائی جہازوں سے بھی مدد لی گئی جس کے دوران کوئی عام شہری ہلاک نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان میں پانچ نیٹو فوجی ہلاک01 August, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس افغانستان: مددگار خواتین ہلاک13 August, 2008 | آس پاس خوست: نیٹو بیس پر حملہ ناکام19 August, 2008 | آس پاس افغانستان میں دس فرانسیسی ہلاک19 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||