صدارتی امیدوار، بیویاں اور تقاریر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارتی کنونشن ایک سرکس کی مانند ہے چاہے وہ ڈینور میں ہو یا شکاگو یا پھر منی اوپلس میں ہو جہاں دیکھنے کے لیے جانور، ڈانس اور کرتب ہوتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن میں سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی، جنہوں نے حال ہی میں دماغ کے سرطان کا علاج کرایا ہے، ایک شیر کی طرح بولے اور وہاں موجود افراد کی آنکھیں نم کر دیں۔ لیکن سنہ دو ہزار آٹھ سرکس میں ایک نیا ایکٹ لا رہا ہے جس میں ماضی کے چھوٹے ایکٹ کو ایک بڑی اور شاندار طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور وہ ایکٹ ہے صدارتی امیدواروں کی بیویوں کی تقاریر۔ مشیل اوباما اور سنڈی مکین کو کنوینشن میں تقاریر کرنے اور تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مشیل کی تقاریر کو بہت سراہا گیا جبکہ سنڈی کو ابھی کنوینشن میں تقریر کرنی ہے۔ ان دونوں خواتین کو معلوم ہے کہ ان کو اپنے خاوندوں کو گھریلو سانچے میں پیش کرنا ہے۔ کنوینشن میں نہ صرف ان کی تقاریر اہم ہیں جس کو ووٹرز، ناظرین اور سیاسی انتظامیہ غور سے سنیں گے بلکہ ان کے کپڑے، بال وغیرہ کو بھی بغور دیکھا جائے گا۔ وہ دن گئے جب مسکرانا اور ہاتھ ہلانا کافی تھا۔ صدارتی امیدوار کی بیوی کو ووٹرز پندرہ منٹ کے لیے پرکھیں گیں۔ (لورا بش نے اپنے شوہر سے شادی کے بعد قسم لی تھی کہ وہ کبھی بھی ان کو تقریر کے لیے نہیں کہیں گے لیکن ان کو بھی کنوینشن میں تقریر کرنی پڑی) لیکن ایسا ہمیشہ ہی سے نہیں تھا۔ ہلری کلنٹن کو تقریر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں رہی۔ اسی طرح رابرٹ ڈول کی بیگم الیزبیتھ ڈول نے ایک شاندار تقریر کی تھی۔ ہلری کی طرح وہ سینیٹر ہیں۔ لیکن سنڈی کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن ان کو انتخابی مہم میں ان کی دولت اور کئی گھروں کے حوالے سے ایشو پر جواب دینے ہوں گے۔
ایسے موقعوں پر مزاح بہت کارآمد رہتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سنڈی تقریر میں مکین کے جنگی ہیرو، گھریلو شخص اور ایک اچھا کھانا بنانے والے کے حوالے سے بات کریں گی۔ سنڈی کوشش کریں گی کہ مکین کی ہمدردانہ صلاحیت کو پیش کریں۔ مشیل نے ایک شاندار تقریر کی جس میں انہوں نے اپنے بارے میں ایک بہن، بیٹی، ماں اور بیوی کے متعلق بات کی۔ یہ اس عورت کی تقریر تھی جس نےشکاگو سے پرنسٹن یونیورسٹی اور پھر ہارورڈ لاء سکول کا سفر کیا۔ لیکن اس کنوینشن میں ان کی ذہنی صلاحیتوں کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ اس سے قبل مشیل نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ وہ اب اپنے ملک پر فخر کرتی ہیں اور ان ریمارکس پر ان پر بہت تنقید ہوئی۔ اس واقع کے بعد سے وہ بہت محتاط ہو گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کو ایک ایسے طریقے سے پیش کیا ہے کہ اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ اوباما کسی خاص طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انیس سو پچاس سے ستر تک پر نظر ڈالی جائے تو میمی آئزن ہاور، جیکولین کینیڈی اور پیٹریشیا نکسن کو کنوینشن میں دیکھا ضرور گیا تھا لیکن سنا نہیں۔ انسی سو چالیس میں صدر ہیری ٹرومین نے اپنی بیوی بیس کا تعارف ’باس’ کہہ کر کروایا اور اس سے زائد بیس کبھی عوامی سطح پر نہیں جانی گئیں۔ نینسی ریگن نے صرف انیس سو چھیانوے میں اس وقت کنوینشن میں تقریر کی جب رونلڈ ریگن بیمار تھے اور انہوں نے ڈول کی نامزدگی کی حمایت کی۔ لیکن یہ کھیل سیاسی بیویوں کے لیے متنازع ہے جیسے کہ جوزف بائڈن نے اپنی بیوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت حسین ہیں ان کے پاس ڈاکٹریٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||