BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 August, 2008, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باراک حسین اوبامہ کا نئے امریکہ کا خواب

کامیابی پر باراک اوبامہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہونگے
کامیابی پر باراک اوبامہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہونگے
کہتے ہیں کہ برسوں قبل کالج کے زمانے میں باراک حسین اوبامہ نے اپنی گرل فرینڈ سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ سنہ دو ہزار آٹھ کی عالمی اولمپک گيمز وہ بیجنگ میں دیکھ رہے ہونگے-

وہ اولمپک گیمز میں تو نہیں گئے لیکن اولمپک گیمز کے بعد ایسا ہی ایک بڑا مظہر امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا کولوراڈو کے ڈینور شہر میں وہ کنونشن تھا جس میں باراک اوبامہ کو ڈيموکریٹس کا اسی سال نومبر میں ہونیوالے صدارتی اتنخابات میں باقاعدہ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار چنا گیا، امریکہ میں سفید فام ماں اور کینیا سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام مسلمان باپ (ایکسچینچ اسٹوڈنٹ) سے جنم لینے والے باراک اوبامہ امریکہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام صدارتی امیدوار ہونگے۔

اور اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر ہونگے اور پھر امریکہ میں تاریخ جو کہ واقعی بدل رہی ہے واقعی بدل چکی ہوگی۔

ڈیموکریٹک پارٹی جو بقول شخصے علامت پسندی میں کافی یقین رکھتی ہے اس کا ڈینور کنونشن اور اس میں باراک اوبامہ کو صدارتی امیدواری کے لیے چننا اتفاق رکھتا ہے، بدھ یعنی اٹھائیس اگست کے اسی دن جب سے پینتالیس سال قبل واشنگٹن ڈی سی کے لنکن ممیوریل پر دو لاکھ لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر جیسے ہجوم میں امریکہ میں شہری آزادیوں کے بابے اور سیاہ فام رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی مشہور تاریخی تقریر ’آئی ہیو اے ڈریم‘ کی تھی-

 باراک اوبامہ جنہیں کل سابق صدر بل کلنٹن نے ڈینور کنونشن میں امریکی خواب کا نیا جنم قرار دیا تھا بدھ کی رات اسی ہزار مندوبین اور دیگر افراد سے کھچا کھچ بھرے فٹبال اسٹیڈیم میں خطاب کر رہے تھے- حقیقت میں بہت سے لوگ انہیں امریکہ میں کرشمہ جاتی صدر جان ایف کینیڈی اور شہری آزادیوں کی تحریک کے بانی مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا پنر جنم یا دوسرا جنم سمجھنے لگے ہیں-
ایک اور نمایاں چيز باراک اوبامہ اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر میں اور بھی قدرے مشترک ہے کہ دونوں برصغیر میں آزادی اور اہِنسا کے عظیم رہنما گاندھی سے متاثر ہیں۔ جو لوگ باراک اوبامہ کے کیپٹل ہِل والے دفتر میں گئے ہونگے وہاں انہوں نے گاندھی کی بڑی پینٹنگ لگي ضرور دیکھی ہوگي-

امریکہ ہے کیا؟ ایک ٹوٹا بکھرتا بنتا بگڑتا، رکا ہوا، جامد، رواں، سایہ فگن ہوتا ہوا، بھاگتا، اڑتا خواب- اسی لیے تو بہت سے لوگ جو سیاہ فام نسل سے اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی جنریشن سے یا جنریشن کی بھی جنریشن سے تعلق رکھتے تھے انہیں اس موقع پر روتے اور یہ کہتے دیکھا گیا کہ کاش ان کے ابا یا اماں زندہ ہوتے تو وہ آج دیکھ رہے ہوتے کہ کس طرح ڈیموکریٹک پارٹی باراک اوبامہ کو امریکہ کے لیے اپنا صدارتی امیدورار منتخب کر رہی ہے۔

یہ اور بات ہے کہ ڈینور کنونشن میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی بیٹی اور بیٹا دونوں موجود تھے- دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ کس طرح ایک سیاہ فام شخص امریکہ کا ممکنہ صدر بننے جا رہا ہے- لیکن سب سے بہتر انداز میں بدھ کی رات باراک اوبامہ نے اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدواری قبول کرنے والی تقریر میں کہا کہ ’یہ انتخابات میرے بار ے میں نہیں آپ (امریکی عوام) کے بارے میں ہیں-‘

حقیقت میں یہ انتخابات، بقول سہیل حلیم، ساری دنیا کے بارے میں ہیں- وہی بات کہ ساری دنیا امریکہ کی مخالف ہے اور ساری دنیا امریکہ آنا بھی چاہتی ہے! وہ تیسری دنیا کے بڑے دانشوراور روہڈ اسکالرز بھی جو اپنے ملکوں سے زیادہ سیف امریکہ میں ہیں اور امریکہ میں بیٹھ کر گالیاں بھی امریکہ کو ہی دیتے ہیں۔

امریکہ اپنے آئین کی پہلی اور دوسری ترمیم میں ان کے ایسے حق کی بڑے شوق سےحمایت اور دفاع کرتا ہے، جیسے باراک اوبامہ کہہ رہے تھے کہ اوہائيو کی گینگوں کے ہاتھوں میں صرف اے کے فارٹی سیون ہونے کی وجہ سے وہ دوسری ترمیم ختم نہیں کرسکتے-

باراک اوبامہ جنہیں کل سابق صدر بل کلنٹن نے ڈینور کنونشن میں امریکی خواب کا نیا جنم قرار دیا تھا بدھ کی رات اسی ہزار مندوبین اور دیگر افراد سے کھچا کھچ بھرے فٹبال اسٹیڈیم میں خطاب کر رہے تھے- حقیقت میں بہت سے لوگ انہیں امریکہ میں کرشمہ جاتی صدر جان ایف کینیڈی اور شہری آزادیوں کی تحریک کے بانی مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا پنر جنم یا دوسرا جنم سمجھنے لگے ہیں-

 باراک اوبامہ نے اپنی تقریر میں امریکہ کو تنہا نہیں بلکہ اپنےسفر میں پوری دنیا کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کی- انہوں نے سات سمندر پار کر کے تمام دنیا سے آنے والے تارکین وطن کی طرف امیگریشن کے قوانین کو انسانی بنانے پر زور دیا- انہوں نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ کس طرح غیرقانونی تارک وطن کو سستی اجرت پر روزگار دیکر آجر اور بزنسں امریکی اصولوں کا مذاق اڑاتےہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈینور کنونشن کو سی این این پر ایک سیاسی پنڈت ’سیاسی سوپر بائول‘ کہہ رہا تھا- ایک اور ٹیلیویژن دیکھنے والے نے اپنے ای میل میں لکھا: ’چاہے وہ (اوبامہ) میرے پورے خاندان کو پاکستان بدر کردے تب بھی میں ووٹ اوبامہ کو ہی دوں گا۔‘ ایسا پیغام لکھنے والا ظاہر ہے کہ پاکستانی بھی نہیں تھا-

باراک اوبامہ اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے: ’ہم القاعدہ اور طالبان دہسشتگردوں سے جنگ ختم کریں گے- آپ دنیا کے اسی ممالک میں نیٹ ورک رکھنے والے دہشتگردوں کو عراق پر قابض ہونے سے ختم نہیں کرسکتے اور نہ ہی ایران پر سخت الفاظ سے اسرائیل کو بچا سکتے ہیں۔‘

وہ کہہ رہے تھے: ’ہم اسامہ بن لادن اور ان جیسوں کو ان غاروں سے پکڑ کر لائيں گے جہاں وہ چھپے ہوئے ہیں- جان مکین تو ان غاروں کے نزدیک بھی نہیں جاتے-‘ شکاگو کی غریب کالی بستیوں میں اپنے کالج کے زمانے میں کام کرنے والا یہ نوجوان اوبامہ جسے شاید اب تک امریکہ کے بہت سے لوگ ٹھیک سے نہیں بھی جانتے ہوں امریکہ کے لوگوں کے بہت سے مسائل اپنے مسائل کے حوالے سے جانتا ہے-

باراکہ اوبامہ نے سنہ دو ہزار چار میں اپنے سینیٹر بننے کی انتخابی مہم میں اس کے جلسے کے باہر شور کرنے والے نوجوانوں کو کہا تھا کہ وہ کوئي بھی ازم اپنا سکتے ہیں لیکن پیسہ بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں- کالج جانے سے تو ایسے موقع بہت ملتے ہیں-

وہ کل رات بھی کہہ رہے تھے کہ وہ اور ان کی بیوی ڈینور کنونشن میں اس لیے موجود ہیں کہ وہ کالج گئے تھے، وہ جب میری نانی ایک عورت ہونے کے ناتے سیکریٹری سے آگے ترقی نہیں پا سکی تھی، یا جب وہ جب میری ماں ہیلتھ انشورنس کمپنی کے امتیازی سلوک کی وجہ سے کینسر میں مری تھی، یا میرا باپ گھر اور فیملی چھوڑ کر جاتا بنا تھا، یا پھر یہ کہ میری ماں نے مجھے اور میری بہن کو پڑھانے کے لیے کتنے جتن اور محنت کی جیسی ڈھیر ساری باتیں امریکی عوام کے ایشوز سے جوڑتا ہے-

باراک اوبامہ نے اپنی تقریر میں امریکہ کو تنہا نہیں بلکہ اپنےسفر میں پوری دنیا کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کی- انہوں نے سات سمندر پار کر کے تمام دنیا سے آنے والے تارکین وطن کی طرف امیگریشن کے قوانین کو انسانی بنانے پر زور دیا- انہوں نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ کس طرح غیرقانونی تارک وطن کو سستی اجرت پر روزگار دیکر آجر اور بزنسں امریکی اصولوں کا مذاق اڑاتےہیں۔

ڈینور کے کنونشن میں پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی- باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم جنس شادی کا مطلب کیا ہے لیکن میرے گے بھائيوں اور لزبین بہنوں کو بھی اپنے ساتھیوں اور پارٹنرز کو بیمار ہونے پر ہسپتالوں میں دیکھ بھال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ کنونشن میں کوئي ڈھائي سو گے اور لزبین موجود بتائے جاتے ہیں جو کنونشن کے مندوبین کا چھ فیصد تھا-

انہوں نے جارج ڈبلیو بش کے آٹھ سالہ دور اور پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی خواب کو ان کی بے ہنگم پالیسوں کی وجہ سے بڑا دھچکا پہنچا ہے اور امریکی خواب کو وہ پھر سے جوڑیں گے- انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں کٹوتی صرف ارب پتی اور کروڑ پتی لوگوں کے لیے کیوں جبکہ امریکہ کے کروڑہا غریب لوگوں کو ٹیکسز میں ایک پینی یا پائي کی بھی چھوٹ نہیں ملی؟

جب باراک اوبامہ تقریر کررہے تھے تو انہیں ٹیلیویژن پر دیکھ کر میری بیوی نے کہا کہ یہ سب کچھ وہ بغیر پڑھے اور یاد زبانی روانگی سے کیسے کہہ رہا ہے؟ کیا پاکستان میں ایسا کوئي لیڈر ہے؟ پھر وہ خود کہنے لگيں ہاں بینظیر اسی طرح بولتی تھیں-

نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر پر لگے جمبو ٹیلیویژن پر اس وقت اوبامہ کی چلتی ہوئي تقریر پر ایک خلقت جمع تھی، پیلی ٹیکسی کے پاکستانی یا جنوبی ایشیائي ڈرائيوروں نے قریب سے گزرتے داد میں ہارن بجائے، وہ رکتے رہے اور ا ن کی سواریاں گردن نکال کر ان کی تقریر سنتی رہیں-

میں نے سوچا آج امریکہ میں ارنیسٹ ہیمنگوے ہوتا تو وہ کولاراڈو کے پہاڑوں کی گرما میں بھی برف سے ڈھکی چوٹیوں اور آج کے امریکہ پر ایک زبردست کہانی لکھتا-

میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
جوسیف بائڈینجوزف بائڈن
نائب صدر کے لیے باراک اوبامہ کا انتخاب
وہائٹ ہاؤس کے مکین
بیرونی دنیا کیوں اوباما کے ساتھ ہے؟
’خوف کی سیاست‘
اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے کارٹون پر تنازعہ
براک اوبامااوباما کون ہیں؟
’پہلے ممکنہ ڈیموکریٹ سیاہ فام امیدوار‘
براک اوبامااوباما کی معذرت
خاتون صحافی کو ’سویٹی‘ کہنے ہر
باراک اوبامہاسامہ نہیں، اوبامہ
سی این این کی سینیٹر سے معافی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد