’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ڈیوڈ میکرینن نے کہا ہے کہ افغانستان میں شورش کو کچلنے کے لیے انہیں مزید دس ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔ ڈیویڈ میکرینن نے جو کہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج کے کمانڈر ہیں کہا ہے کہ صدر بش نے افغانستان میں جن تین ہزار فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے ان کے علاوہ انہیں مزید دس ہزار فوجی چاہئیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیویڈ میکرینن نے یہ بات افغانستان کے دورے پر آئے امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ افغانستان میں بھاری تعداد میں مزید فوجی بھیجنے کی اپیل طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں کی طرف سے کارروائیوں میں تیزی اور پاکستان میں ان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ میکرینن نے امریکہ کے چیئرمین جوائٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن کی اسلام آباد روانگی سے قبل کابل میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کم از کم تین بریگیڈ اور ان کے معاون دستوں کی ضرورت ہے اور یہ اُن تین ہزار فوجیوں کے علاوہ ہے جن کو افغانستان بھیجنے کا اعلان صدر بش نے حال ہی میں کیا تھا۔ میکرینن نے کہا کہ گو کہ شدت پسندوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی لیکن اس شورش کو دبانے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس وقت افغانستان میں تینتیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور شدت پسندوں نے نئے طریقے اپنا لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مزید تین بریگیڈ کو افغانستان بھیجنے کی ضرورت کو مان لیا ہے اور یہ اب یہ دیکھنا ہے کہ کب یہ بریگیڈ بھیجے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان میں کمک کو عارضی نہیں کہیں گے بلکہ انہیں اس کی طویل عرصے کے لیے ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں فوج عراق سےکم افغانستان میں زیادہ09 September, 2008 | آس پاس پاکستان اہم میدان جنگ ہے: بش09 September, 2008 | آس پاس خوست: نیٹو بیس پر حملہ ناکام19 August, 2008 | آس پاس ’حملے میں ساٹھ بچے ہلاک ہوئے‘26 August, 2008 | آس پاس عراق میں فتح نہیں: امریکی جنرل11 September, 2008 | آس پاس پاکستان پر حملے، بش کی خفیہ اجازت11 September, 2008 | آس پاس افغانستان: لوگر کے گورنر ہلاک13 September, 2008 | آس پاس حملے، پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ16 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||