افغانستان: لوگر کے گورنر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے لوگر کے گورنر کابل کے قریب اپنے گھر کے باہر سڑک کے کنارے نصب کیے گئے بم کا نشانہ بن گئے ہیں۔ گورنر عبداللہ کے ساتھ ان کے دو محافظ اور ڈرائیور بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گورنر کا گھر کابل کے مغرب گاؤں پغمان میں ہے۔ وردک صدر حامد کرزئی کی کابینہ کے رکن بھی رہے ہیں۔ انہوں نے سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف لڑائی میں امریکی فوج کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ عبداللہ وردک افغانستان کے دوسرے گورنر ہیں جو ماضی قریب میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔ان حملوں کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جاتی ہے جنہوں نے کچھ عرصہ سے غیر ملکی افواج پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ لوگر صوبہ کابل کے جنوب میں واقع ہے اور طالبان تحریک کا اہم مرکز ہے۔ صوبے کے گورنر تین گاڑیوں کے کارواں میں سفر کر رہے تھے جب ان کی گاڑی بم کا براہ راست نشانہ بن گئی۔ خبر رساں ادارے اے پی نے ایک شخص کا بیان نشر کیا ہے جس میں اس نے کہا کہ بم قریب ہی پہاڑی پر کھڑے دو لوگوں نے چلایا۔ | اسی بارے میں 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس ہلمند گورنرکے دفتر میں خود کش حملہ12 December, 2006 | آس پاس ہلمند حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا02 July, 2008 | آس پاس افغانستان: مددگار خواتین ہلاک13 August, 2008 | آس پاس افغانستان کی پہلی خاتون گورنر26 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||