حملے، پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ تین ستمبر کو امریکی افواج نے پہلی بار پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر زمینی حملہ کیا۔ اس وقت سے اب تک پاکستانی علاقے میں کم از کم پانچ مبینہ امریکی میزائل حملے ہو چکے ہیں خواہ وہ افغانستان کی حدود سے کیے گئے یا پھر جاسوس طیاروں کے ذریعے گرائے گئے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں میزبان یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ نہیں ہے اور یہ کہ پاکستان کو امریکی حملوں کا جواب دینا چاہۓ۔ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ دونوں بڑے اتحادی اب ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہونے کے خطرے سے دو چار ہونے والے ہیں؟ دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں عالمی برداری کو افسوس اور پریشانی03 November, 2007 | آس پاس حکومت دو ہفتوں میں: نیگروپونٹے29 February, 2008 | آس پاس علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گے: پاکستان16 June, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس ’انگور اڈہ جیسے واقعات دوبارہ نہیں‘12 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||