BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 June, 2008, 06:17 GMT 11:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گے: پاکستان
 حامد کرزئی
کرزئی پاکستان اور اتحادی افواج سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جائے
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے اس بیان کے جواب میں کہ وہ شد پسندوں سے نمٹنے کے لیے اپنی فوج پاکستانی حددو میں بھیج سکتے ہیں، پاکستان نے کہا ہےکہ وہ اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کرے گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا کہ ’ہم نے صدر کرزئی کا بیان دیکھا ہے۔۔۔ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان الزام تراشیوں کو سلسلہ دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی کے سلسلےمیں پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ اپنی سرحدی حدود میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حق صرف پاکستانی فوج کو ہی حاصل ہے۔

’جہاں تک افغانستان کے علاقوں کا تعلق ہے، افغان فوج، بین الاقوامی فوج (آئسیف) اور امریکی فوج دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائی کرنا چاہیں، کر سکتی ہیں۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق

محمد صادق نے کہا کہ کوئی بھی بیان جواس بنیادی اصول کی نفی کرتا ہو، وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا اور اس کا منفی اثر ہی ہوگا۔

اس سے قبل اتوار کو پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ پاکستان کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیگا۔

حامد کرزئی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی علاقے سے شدت پسند آ کر ان کے ملک میں افغان اور وہاں تعینات غیرملکی فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں تو ان کے ملک کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں کارروائی کر سکے۔

افغانستان اکثر پاکستان پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ اس کے قبائلی علاقوں میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں جہاں سے وہ افغان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انہوں اس طرح کھل کر یہ کہا ہو کہ افغانستان کو سرحد پار جوابی حملوں کا حق ہے۔

قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان نے گزشتہ ہفتے افغانستان میں ایک خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

صدر کرزئی نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب افغانستان میں سکیورٹی اہلکار ان سینکڑوں شدت پسندوں کی تلاش کر رہے ہیں جو جمعہ کے روز قندھار میں ایک جیل پر خود کش حملے کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔

 بیت اللہ محسود کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اس کا پیچھا کریں گے اور ہم اس کو اب اس کے گھر میں نشانہ بنائیں گے
حامد کرزئی

سرحد پار حملوں کے حوالے سے صدر کرزئی نے خاص طور پر طالبان رہنما بیت اللہ محسود کوخبردار کیا۔

’ لہذا بیت اللہ محسود کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اس کا پیچھا کریں گے اور ہم اس کو اب اس کے گھر میں نشانہ بنائیں گے۔۔۔‘

حامد کرزئی نےبیت اللہ محسود کو بھی خبردار کیا

اتوار کو اپنے فوری رد عمل میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’ نہ تو ہم کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے، اور نہ ہی کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کرنے دیں گے۔‘

’ ہم یہ لڑائی امریکہ کے لیے نہیں لڑ رہے۔ یہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہم دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ صدر کرزئی کا بیان سفارتی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

پندرہ ہلاک
 امریکی فوج نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز جیل سے فرار ہونے والے سینکڑیوں قیدیوں کی تلاش کے دوران پندرہ ’شدت پسند‘ ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ پندرہ افراد بھی جیل سے فرار ہونے والوں میں شامل تھے۔
دریں اثناء افغانستان میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز جیل سے فرار ہونے والے سینکڑیوں قیدیوں کی تلاش کے دوران پندرہ ’شدت پسند‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ پندرہ افراد بھی جیل سے فرار ہونے والوں میں شامل تھے۔ امریکی فوج نے کہا کہ انہوں نے پانچ مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے ہیں۔

افغانستان کے حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً نو سو قیدی فرار ہوئے تھے جن میں تقریباً چار سو طالبان تھے۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور اس کے بعد درجنوں حملہ آور جیل میں گھس گئے۔ اسی دوران پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو ئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد