جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے اعتراف کیا ہے کہ قندھار کی ایک جیل پر طالبان کا خود کش حملہ، جس میں سینکڑوں قیدی فرار ہوگئے تھے، فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے ایک کامیابی ہے۔ لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان جنرل کارلوس برانکو نے کہا کہ اس حملے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ طالبان مضبوط ہو رہے ہیں اور یہ کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔ نیٹو کے مطابق اس حملے میں گیارہ سو قیدی فرار ہوئے جن میں تقریباً چار سو طالبان تھے۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور اس کے بعد درجنوں حملہ آور جیل میں گھس گئے۔ اسی دوران کار بم اور راکٹ حملے میں پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو ئے۔ قندھار شہر میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ تیس موٹر سائیکل سوار جنگجوؤں اور دو خودکش بمباروں نے جیل پر حملہ کیا اور چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔ پولیس اور فوج گلیوں میں گشت کر رہی ہے اور رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ جیل سپرنٹینڈنٹ عبد القادر نے کہا کہ ایسے بھی قیدی ہیں جو فرار نہیں ہوئے اور انہوں نے جیل میں رہنے کو ترجیح دی۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تین کلو میٹر کے دائرے میں گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ | اسی بارے میں جلال آباد: خودکش حملہ، فوجی ہلاک31 May, 2008 | آس پاس نیٹو کو افغانستان میں وسائل کی کمی03 June, 2008 | آس پاس خودکش حملہ، چار افغان فوجی ہلاک24 May, 2008 | آس پاس طالبان کی دھمکی، درجنوں سکول بند23 May, 2008 | آس پاس افغانستان:خود کش حملہ، پندرہ ہلاک 29 April, 2008 | آس پاس افغانستان: کینیڈیئن فوج پر حملہ12 March, 2008 | آس پاس قندھار میں دوسرا دھماکہ، 35 ہلاک18 February, 2008 | آس پاس قندھار دھماکہ: کم از کم 80 ہلاک17 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||