BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو
حملے کے بعد قندھار جیل کا منظر

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے اعتراف کیا ہے کہ قندھار کی ایک جیل پر طالبان کا خود کش حملہ، جس میں سینکڑوں قیدی فرار ہوگئے تھے، فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے ایک کامیابی ہے۔

لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان جنرل کارلوس برانکو نے کہا کہ اس حملے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ طالبان مضبوط ہو رہے ہیں اور یہ کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔

نیٹو کے مطابق اس حملے میں گیارہ سو قیدی فرار ہوئے جن میں تقریباً چار سو طالبان تھے۔

ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور اس کے بعد درجنوں حملہ آور جیل میں گھس گئے۔ اسی دوران کار بم اور راکٹ حملے میں پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو ئے۔

قندھار شہر میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ تیس موٹر سائیکل سوار جنگجوؤں اور دو خودکش بمباروں نے جیل پر حملہ کیا اور چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔

پولیس اور فوج گلیوں میں گشت کر رہی ہے اور رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

جیل سپرنٹینڈنٹ عبد القادر نے کہا کہ ایسے بھی قیدی ہیں جو فرار نہیں ہوئے اور انہوں نے جیل میں رہنے کو ترجیح دی۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تین کلو میٹر کے دائرے میں گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد