BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 February, 2008, 01:02 GMT 06:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت دو ہفتوں میں: نیگروپونٹے
جان نیگروپونٹے
جان نیگروپونٹے نے نومبر میں پاکستان کا دورہ کیا تھا
امریکہ نے کہا ہے کہ اس کا اندازہ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر یا اس سے بھی پہلے پاکستان میں ایک نئی حکومت آ جائے گی اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ اس کے ساتھ مل کر کام کر سکے گی۔

امریکی کانگریس میں پوچھے گئے سوال جواب میں نائب امریکی وزیرِ خارجہ جان نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے امریکہ کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے تک مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اوپادھیائے کے مطابق جان نیگروپونٹے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر نے انہیں بتایا ہے کہ دو ہفتے یا اس سے بھی پہلے پاکستان میں ایک نئی حکومت بن جائے گی۔

نیگروپونٹے نے یہ بھی کہا ہے کہ چاہے جس کی بھی حکومت بنے امریکہ سبھی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور امریکہ کسی پر بھی یہ دباؤ نہیں ڈال رہا ہے کہ کون کس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہو۔

امریکی سینٹ میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرف ابھی بھی پاکستان کے صدر ہیں اور وہ امریکہ ان کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔

نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف کے بارے میں بش انتظامیہ کی طرف سے پہلے دیے گئے بیانوں سے جمعرات کا یہ بیان کافی ماپ تول کر دیا گیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اشارہ ضرور تھا کہ امریکہ اپنے آپ کو مشرف سے دور کرنے کی کوشش میں ہے۔

صدر مشرف
صدر مشرف کے ساتھ کام کرتے رہیں گے: امریکہ

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا نئی حکومت میں امریکہ کے دوست بھی ہوں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’لگتا تو یہی ہے کہ اعتدال پسند طاقتیں ہی جیت کر آئی ہیں اور بھلے جتنی بھی باتیں ہو رہی ہوں کہ شدت پسندوں سے بات کی جائے، سمجھوتہ کیا جائے، لیکن اتنا تو طے ہے کہ پاکستان کے سیاسی دھڑے شدت پسندوں کی حمایت نہیں کرتے۔‘

نیگروپونٹے نے کانگریس سے کہا کہ ان انتخابات نے پاکستان کی عوام کو ایک موقعہ فراہم کیا تاکہ وہ اس کا پورا استعمال کر سکیں اور اس میں امریکہ کو ان کی پوری مدد کرنی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت جو بھی بنے اس سے ان کی یہی توقع ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ملک کر شدت پسندی کی جڑ کو ختم کرنے پر کام کرے، خاص کر قبائلی علاقوں میں۔

نیگروپونٹے کا کہنا تھا کہ وہاں اب جنگ دل اور دماغ کو جیتنے کی ہے۔ ’اگر وہاں کے افراد کی معاشی حالت کو بہتر نہیں کیا گیا تو پھر انہیں شدت پسندوں کی طرف جانے سے روکنا مشکل ہو گا۔‘

امریکہ نے نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی ہے

انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ قبائلی علاقے کی بہتری کے لیے وہاں سکول بن سکیں، روزی روٹی ملے، ہسپتال بن سکیں اس کے لیے کانگریس جلد سے جلد ایک بل پاس کرے اور اس پر تیزی سے کام ہو۔

سینیٹر جوزف بائیڈن جو حال ہی میں پاکستان کے دورے سے لوٹے ہیں انہوں نے کہا کہ بہت جلد وہ سینیٹر رچرڈ لوئگر کے ساتھ مل کر ایک بل پیش کریں گے جس میں پاکستان کی میعشت کی بہتری کے لیے دی جانے والی امداد کو تین گنا بڑھانے کی بات ہو گی۔

لیکن ساتھ ہی پاکستان کو 2001 سے ابتک دی گئی فوجی امداد پر کافی سوال اٹھائے گئے اور سینیٹرز نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سارے بل جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خرچ کے طور پر پاکستان کی طرف سے دیے گئے ہیں وہ انہیں دکھائے جائیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ کچھ ہفتوں سے بش انتظامیہ کی پاکستان پالیسی پر کافی تنقید ہو رہی ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ایک بھرپور کوشش نظر آ رہی ہے کہ اب ایک شخص نہیں بلکہ پورے عوام کا دل جیتا جائے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کل تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف صدر مشرف کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اہلکار آج نئی حکومت اور پورے ملک کے ساتھ کام کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

فوجی امداد کا حساب
امریکہ امداد کے حساب کتاب کا متقاضی
رابرٹ گیٹس (فائل فوٹو)مشرف مخالف نتائج
’صدر اور نئے وزیراعظم کے ساتھ مل کر کام‘
امریکی جھنڈاجنگ کا کیا بنے گا؟
پاکستانی انتخابات کے بعد امریکی پریشانیاں
طالبانطالبان کا خیرمقدم
ایم ایم اے کی شکست اور طالبان خوش!
آصف علی زرداری (فائل فوٹو)شراکت اقتدارفارمولہ
پارلیمانی پارٹیوں نےاختیار شریک چیئرمین کودیدیا
’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘ن لیگ کا مطالبہ
’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘
ایک سیاسی کارکنپاکستان:مغرب سرگرم
پاکستانی سیاست اور سرگرم مغربی سفارتکار
اسی بارے میں
’عوام پر ایک شخص کو ترجیح‘
18 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد