امریکہ امداد کے حساب کا متقاضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی جانب سے جوہری اثاثوں سے متعلق خدشات کے بعد اب پاکستان کو دی جانی والی فوجی امداد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے دی جانے والی امریکی امداد کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان ہر ماہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے موجود ایک لاکھ سے زائد فوج کے اخراجات کا بل ارسال کرتا ہے۔ بغیر رسیدوں کے کئی بل منظور ہوجاتے ہیں جبکہ چند پر اعتراضات لگا کر واپس کر دیے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ان اخراجات کی ادائیگی پر اختلافات کی وجہ سے رقم روکی بھی جاتی ہے اور کئی مرتبہ تو کئی کئی ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ امریکی فوج کی جانب کچھ رقم اب بھی واجب الادا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے درست رقم کا علم نہیں لیکن ہاں حالیہ مہینوں میں پاکستان کی امریکی فوج کی جانب کچھ رقم واجب الادا ہے‘۔ امریکی ذرائع کے مطابق پاکستان کو خوراک، تیل اور اسلحہ کی مد میں اوسطاً آٹھ کروڑ ڈالر ماہانہ رقم ادا کی جا رہی ہے جو کہ چھ برسوں میں تقریباً چھ ارب روپے بن رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق اس رقم میں سے ستر فیصد ایف سولہ جنگی طیاروں کو خریدنے یا پھر جرنیلوں کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر کرنے جیسے مبینہ غلط منصوبوں پر صرف کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ خبر کے مطابق امریکیوں نے پاکستانیوں کی جانب سے بحریہ کے لیے سڑکوں کی تعمیر کے ایک منصوبے جیسا بل مسترد کر دیا تھا۔ پاکستان بدعنوانی کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ پائی پائی کا حساب رکھتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس موقع پر ان خبروں کے سامنے آنے کی چند اہم وجوہات میں امریکہ میں صدارتی انتخابات میں پاکستان ایک اہم موضوع بحث، پاکستان میں نئی حکومت سازی اور پاکستان کے جانب امریکی کی ’دائمی بداعتمادی‘ شامل ہو سکتی ہیں۔ پشاور کے سینر صحافی اقبال خٹک کہتے ہیں کہ ان خبروں کے پس پردہ بش انتظامیہ کی مایوسی ہوسکتی ہے۔ ’شاید وہ سمجھتے ہوں کہ قبائلی علاقوں میں ان کی توقعات کے مطابق نتائج نہ ملنے پر وہ دباؤ بڑھانا چاہتے ہوں۔ یہ خبریں امریکی حکام کی مدد کے بغیر نہیں سامنے آسکتیں‘۔ پاکستان کی طرف امریکی بداعتمادی کا حال تو یہ ہے کہ ایک اور خبر کے مطابق امریکہ نے پاکستان کو افغان سرحد کی نگرانی کے لیے جو رات کی تاریکی میں دیکھنے والی تین سو دوربینیں دے رکھی ہیں وہ ہر تین ماہ بعد پاکستان کو پندرہ یوم کے لیے امریکہ کو لوٹانی پڑتی ہیں تاکہ یہ تسلی کی جا سکے کہ وہ کہیں شدت پسندوں کے ہاتھ تو نہیں لگ گئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکیوں کو خدشہ ہو کہ شاید سیاسی حکومت ان کے مفادات کی آنکھیں بند کر کے اس طرح تحفظ نہیں کرے گی جس طرح فوجی حکمراں کرتے رہے ہیں لہذا نئی پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی خاطر امریکی اپنی امداد کی بابت زیادہ احتساب کا تقاضہ کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’امداد بند کرنی ہے تو کوئی اور حلیف ڈھونڈیں‘12 January, 2008 | پاکستان ’امریکی امداد دفاع پر خرچ‘24 December, 2007 | پاکستان پاکستان کو امریکی مدد، نئی شرائط28 July, 2007 | پاکستان ہماری امداد کم نہ کریں: پاکستان12 June, 2006 | پاکستان پاکستان پر امریکی پابندیاں ختم09 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||