ہماری امداد کم نہ کریں: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ پاکستان نے امریکی حکومت سے اعلان کردہ امداد میں کٹوتی کا معاملہ اٹھایا ہے اور ان سے کہا ہے کہ امداد میں کٹوتی نہ کی جائے۔ پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹ نے سن دو ہزار سات میں امریکہ سے ملنے والی تہتر کروڑ اسی لاکھ ڈالر کی امداد میں پندرہ کروڑ کی کٹوتی کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ تسنیم اسلم نے امریکی امداد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جون سن دو ہزار تین میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر جارج بش نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کی امداد منظور کی تھی۔ ان کے مطابق آدھی رقم فوجی اور آدھی اقتصادی مقاصد کے لیے تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ صدر بش کی اعلان کردہ امداد پاکستان کو پانچ برسوں میں یعنی سن دو ہزار پانچ سے سن دہ ہزار نو تک ساٹھ کروڑ ڈالر سالانہ قسط کی صورت میں ملنی تھی۔ ان کے مطابق امریکہ کی اعلان کردہ اس امداد کی دو اقساط کے ساتھ منشیات کی سمگلنگ روکنے، تعلیم کے فروغ اور دیگر مقاصد کے لیے بھی امریکہ نے امداد فراہم کی اور دو برسوں میں تاحال ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر مل چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب امریکی حکومت نے دو ہزار سات کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کو مجموعی طور پر پونے چوبیس ارب روپوں کی امداد دینے کے لیے اپنے سینیٹ سے رجوع کیا تو عوامی نمائندوں کے منتخب فورم نے دو ارب دس کروڑ روپوں کی کٹوتی تجویز کی ۔ ان کے مطابق اس میں پاکستان کو ملنے والی امداد میں سے پندرہ کروڑ کی کٹوتی تجویز کی ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ برس بھی امریکی سینیٹ نے حکومت کی تجویز کردہ رقم میں کٹوتی کی تھی لیکن بعد میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے لیے تجویز کردہ اصل رقم بحال کرالی تھی۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ صدر بش کی انتطامیہ اس برس بھی پاکستان کے لیے ان کی تجویز کردہ رقم میں مجوزہ کٹوتی نہیں ہونے دیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بعض اخبارات نے امریکی امداد میں کٹوتی کو بش انتظامیہ کی پاکستان پالیسی میں ایک تبدیلی قرار دیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ترجمان نے اس بارے میں مفصل وضاحت پیش کی۔ ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر تسنیم اسلم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حال ہی میں افغانستان میں بھارتی کمپنی میں کام کرنے والے چار پاکستانیوں کی شہریت کے بارے میں انہیں شکوک ہیں اور اس بارے میں تحقیقات ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی کمپنی نے جب بیان دیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کے تحت کسی پاکستانی کو ملازمت میں نہیں رکھتے تو پاکستان کے شکوک مزید پختہ ہونے لگے ہیں کہ مارے جانے والے شاید افغانستان کے شہری ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں مارے گئے ان چار افراد کی لاشیں تدفین کے لیے گزشتہ اتوار کے روز بلوچستان کے شہر لورالائی لائی گئی تھیں۔ افغان حکام نے اتوار کو چمن میں لاشیں پاکستانی حکام کے حوالے کی تھیں جنہیں ان کے آبائی علاقے لورالائی میں ناصر آباد لاکر دفن کر دیا گیا تھا۔ قندھار سے پاکستان واپسی پر لشکر گاہ کے مقام پر چاروں افراد کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ چاروں افراد کے پاس کوئی ساڑھے چار لاکھ روپے اور ایک گاڑی تھی جو ان سے چھین لی گئی تھی۔مقتولین کے نام خدائی داد ، باز محمد، عبدالخالق اور تعویذ بتائے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں امریکہ کی قربت مہنگی پڑ رہی ہے04 March, 2006 | پاکستان جنرل محمود درانی امریکہ میں نئےسفیر12 May, 2006 | پاکستان مزید شرائط عائد کرنے سے انکار 23 June, 2004 | پاکستان افغانستان: جھڑپ میں ’طالبان‘ ہلاک 03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||