’ایک دن بھی انتظار نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی پر مشتمل اتحاد نے کہا ہے کہ ایک سو اکہتر نومنتخب ارکان قومی اسمبلی نے ان کے ظہرانے میں شرکت کی ہے جو ان کے مطابق براہ راست منتخب ارکان اسمبلی کا دو تہائی بنتا ہے۔ صدر پرویز مشرف کی مخالف تین بڑی سیاسی جماعتوں نے171 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے مشترکہ حکومت قائم کرنے اور فوج کا ہمیشہ سیاست سے کردار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے ایک ہوٹل میں اپنے حامی اراکین اور صحافیوں سے خطاب میں کیا۔ تینوں رہنماؤں نے آمریت کے مکمل خاتمے، سیاست سے فوج کے کردار کے خاتمے،اسٹیبلشمینٹ کو سیاست میں مداخلت سے روکنے، مضبوط جمہوری پاکستان کے قیام کا عہد بھی کیا۔
میاں نواز شریف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر پرویز مشرف کو بتا دو ہم انتخابی نتائج کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ایک دن بھی انتظار نہیں کریں گے، اگلے روز قومی اسملی کا اجلاس بلائیں‘۔ ’ہم کسی جمالی کے لیے آئی ایس آئی اور نیب کی جانب سے حمایت حاصل کرنے کا انتظار نہیں کرسکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ تین نومبر سے پہلے والی صورتحال فوری بحال کی جانی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ قوم نے آمریت کے خلاف ووٹ دیا ہے اور اب آمریت کو شکست دینی ہے اور جمہوریت کو جیتنا ہے۔ان کے مطابق اب نوے کی دہائی والے حالات نہیں اب تینوں جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا کرے گا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک سو اکہتر اراکین کی حمایت حاصل ہے اور بہت جلد دو تہائی سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہوجائے گی۔ ان کے بقول آئین کو انیس سو تہتر کی اصل شکل میں بحال کریں گے اور میثاق جمہوریت پر عمل کریں گے۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور باالخصوص آصف علی زرداری نے بہت قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا لیکن وہ اس ملک کے روشن خیال لوگوں کی رہنما تھیں اور ان کا تعلق بھی روشن خیال لوگوں سے ہی ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دے کر قوم کو آخری تحفہ جمہوریت کا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ کا کردار ہمیشہ ختم کرنا اور ایک مضبوط جمہوری پاکستان قائم کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء نے میاں نواز شریف اور اسفند یار ولی کو اپنا بڑا بھائی کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ تینوں مل کر ملکی استحکام کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کا جملہ دہرایا اور کہا کہ ’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہوتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’دو تہائی اکثریت ہے، اسمبلی کا اجلاس بلائیں‘26 February, 2008 | الیکشن 2008 پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل26 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی درخواستیں، نتیجہ روکنے کا حکم26 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 ’حلف مشرف کے ہاتھوں اٹھانا ہوگا‘22 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||