پاکستان پر حملے، بش کی خفیہ اجازت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ایک سینیئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر بش نے اسلام آباد کی اجازت کے بغیر پاکستان کی حدود کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر زمینی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سینیئر اہلکار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں صدر بش نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ بی بی سی کی واشنگٹن میں نامہ نگار کم گھٹاس کا کہنا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں اس بات کی کتنی تشویش ہےکہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہا۔ یاد رہے کہ اس ماہ آغاز میں امریکی فوج نے پاکستان کی سرحد کے اندر گھس کر کارروائی کی تھی جو کہ بظاہر صدر بش کی طرف سے خفیہ احکامات جاری ہونے کے بعد عمل میں آئی تھی۔
اس سے قبل جمعرات کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ کے صدر جارج بش نے افغانستان میں سرگرم امریکی سپیشل فورسز کو گزشتہ جولائی میں پاکستان کی حدود کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر زمینی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے یہ خبر ایک سے زیادہ سینیئر امریکی عملداروں کے حوالے سے شائع کی تھی۔ درین اثناء افغانستان میں امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ نیویارک ٹائمز میں جعمرات کو شائع ہونے والے خبر میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کے حوالے سے کہا گیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورت حال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں زیادہ مؤثر ہونا پڑے گا۔ اس بارےمیں احکامات جاری کیئے جا چکے ہیں۔‘ ستمبر گیارہ کے حملوں کی برسی کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی جو افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں کا بھی احاطہ کرے۔
دریں اثناء وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر غیر ملکی فوجوں کو کسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کی مکمل تائید کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کا بھرپور دفاع کریں گی اور کسی غیر ملکی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی کارروائیوں کے بارے میں جو اصول وضع کیئے گئے تھے ان کے تحت امریکی فوج کو پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرحدی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان فوج کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی حدود کے اندر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا اختیار صرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو حاصل ہے۔انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اتحادی افواج کے ساتھ پاکستان کے اندر فوجی کارروائیاں کرنے کا معاہدہ یا اتفاق ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||