BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 21:21 GMT 02:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر ملکی فوج حملہ نہیں کرسکتی‘

جنرل کیانی
اتحادی فوج کو باور کرادیا تھا کہ پاکستان کی سرحد میں آپریشن کا حق صرف پاک فوج کا ہے
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے کہا ہے کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یہ بات جنرل کیانی نے اتحادی فوج کے پاکستان میں حملوں میں ہلاک ہونے والے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر کی۔

جنرل کیانی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے ساتھ یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کی سرحد میں آپریشن کا حق صرف پاکستان کا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اتحادی افواج پاکستان کے اندر آپریشن کر سکتی ہے۔

امریکہ کے سینیئر فوجی افسران کے ساتھ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ستائیس اگست کو ملاقات کے حوالے سے جنرل کیانی نے کہا کہ ان کو حالات کی نزاکت کے متعلق بتا دیا گیا تھا جس کے جامع حل کے لیے صبر و تحمل کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنا مؤقف سمجھایا تھا اور کہا تھا کہ اس قسم کے مسائل کا واحد حل فوجی کارروائی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے ساتھ مذاکرات کی بھی ضرورت ہے۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے فوجی کارروائیوں کے خلاف عوامی ردِ عمل کا بھی ذکر کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائک مولن نے جنرل کیانی کے بتائے ہویے حقائق کااعتراف کیا اور کہا کہ ’جنرل کیانی پاکستان کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ کرتے رہیں گے۔’

پاک فوج کے سربراہ نے بیان میں چار ستمبر کو انگور اڈہ میں ہونے والے حملے میں شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے شدت پسندوں کو مزید مضبوط کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے ماضی میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے ہیں اور ابھی بھی قبائلی علاقوں اور سوات سے شدت پسندی ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور ان کی موجودگی کی وجہ سے القاعدہ اور اس کے ساتھیوں کی نقل و حمل میں مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں عوام کی سپورٹ فیصلہ کن ہو گی۔

جنرل کیانی نے کہا کہ عدم اعتمادی اور غلط فہمیاں مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہیں اور ان علاقوں میں کارروائی کرنے کی مجبوریوں کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ میں کوئی فوری حل نہیں ہوتا۔ اس میں کامیابی کے لیے اتحادی فوج کو سٹریٹیجک صبر و تحمل اور ہماری مدد کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
مدرسے پر میزائل حملہ،20 ہلاک
08 September, 2008 | پاکستان
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد