BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی حملہ شرمناک ہے‘

امریکی فوج کے حملے میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیئے گئے
پاکستان کے قبائلی علاقے انگورہ اڈہ میں امریکی فوج کے مبینہ زمینی حملے اور اس میں پندرہ دیہاتیوں کی ہلاکتوں کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بدھ کو متفقہ قرار داد دیں منظور کی گئی ہیں ۔

حکومت نے امریکی فوج کے اس حملے کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی تعاون کو خدشات لاحق ہو گئے ہیں اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔

اس سے قبل بدھ کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کر کے ان سے امریکی فوج کے اس حملے کی مذمت کی گئی۔

قومی اسمبلی میں بحث
 پاکستان کی علاقائی اور سرحدی سالمیت کے خلاف ہونے والا یہ حملہ شرمناک اور حیران کن ہے۔
شاہ محمود قریشی

جمعرات کے روز قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اپنی معمول کی کارروائی معطل کر کے امریکہ اور اتحادی افواج کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث کی۔

ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاکستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں اترنے والے امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک گھر میں سوئے ہوئے بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی اور سرحدی سالمیت کے خلاف ہونے والا یہ حملہ شرمناک اور حیران کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرمناک یہ اس لئے ہے کہ اس میں صرف معصوم شہری ہلاک ہوئے اور کسی دہشت گرد یا انتہائی مطلوب شخص کی اس حملے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اور حیران کن اس لئے ہے کہ پاکستان اور اتحادی افواج کے درمیان معاہدے میں اس نوعیت کی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس کارروائی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعاون کو خدشات کا شکار کر دیا ہے اور پاکستان کو اس بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں معصوم عورتوں اور بچوں کی ہلاکت نا قابل معافی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب حکومت قبائل کو اپنا ہمنوا بنانے میں مصروف ہے اس طرح کا اقدام قبائل میں امریکہ کے خلاف مزید نفرت اور تشدد کے جذبات ابھارنے کا باعث ہے جس سے خود امریکی مفاد کو بھی نقصان پہنچے گا۔

اس موقع پر حزب اختلاف اور اقتدار کے بھی بعض رہنماؤں نے بحث میں حصہ لیا اور پرزور الفاظ میں امریکی حملے کی مذمت کی۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس بارے میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی مذمتی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج کا حملہ پاکستان کی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کی نفی ہوتی ہے۔ قرادادوں میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اتحادی افواج سے رابطہ کرے اور انہیں بتایا جائے کہ آئندہ اس قسم کی کارروائی کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی ملک کے فوجیوں کی طرف سے اس سرحدی خلاف ورزی کے بعد اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لئے معاوضے کا بندوبست کرے۔

سینیٹ نے وزیراعظم کے قافلے پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کے لئے ایک قرارداد منظور کی۔ یہ قراداد پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے سینیٹر عبدالرزاق تھہیم نے پیش کی تھی۔

اسی بارے میں
وزیرستان میں راکٹ حملے
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد