BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی حملے پر پاکستان کا احتجاج

فائل فوٹو
امریکی اور اتحادی افواج نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کی جس میں چھاتہ بردار فوجیوں نے بھی حصہ لیا

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جنوبی وزیرستان میں امریکی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت پاکستانی سرزمین پر کسی بیرونی فورس کو حملے کی اجازت نہیں دے گی۔‘

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر این پیٹرسن کو طلب کرکے انہیں اس حملے پر حکومت پاکستان کی سخت ناراضگی سے آگاہ کرایا۔

پاکستانی فوج کے مطابق بدھ کی صبح امریکی اور اتحادی افواج نے جنوبی وزیرستان میں جو کارروائی کی اس میں چھاتہ بردار فوجیوں نے بھی حصہ لیا۔

یہ پہلا موقع ہے جس میں امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر مراد نے نامہ نگار رضا ہمدانی سے بات کرتے ہوئے انگور اڈہ کے قریب گاؤں میں امریکی اور اتحادی افواج کے حملے کی تصدیق کی جس میں ان کے مطابق سات شہری ہلاک ہوئے۔

لیکن گورنر سرحد کی جانب سے جاری ایک بیان میں مرنے والوں کی تعداد بیس بتائی گئی ہے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ بلا اشتعال کیا گیا جس میں عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان فوج نے امریکی فوج کے پاکستان کے نمائندے (او ڈی آر پی) سے احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکتسان اپنی خودمختاری اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ حکومت پاکستانی سرزمین پر کسی بیرونی فورس کو حملے کی اجازت نہیں دے گی۔

وزیرستان
امریکہ نے قبائلی علاقوں میں زمینی فوج پہلی بار استعمال کی ہے

وزیر اعظم نے مزید کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اپنی سرحدوں کے اندر انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بے مقصد ہوتی ہیں اور یقیناً یہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔

ان کے مطابق ’اس طرح کے واقعات جہاں تعاون کی بنیادوں کو متاثر کرتے ہیں وہاں تشدد اور نفرت کی آگ، جسے ہم بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں اُسے بڑھکا سکتے ہیں۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ آئندہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی حملہ ناقابل قبول ہوگا اور مزید طیش دلانے کے مترادف ہوگا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خارجہ اس حملے پر سفارتی سطح پر سخت احتجاج بھی کر رہی ہے۔

اس بارے میں جب اسلام آباد میں قائم امریکی سفاررتخانے کے ترجمان لو فنٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سفارتی طریقہ کار کے مطابق پاکستان کا واشنگٹن میں قائم سفارتخانہ سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ سے ہی معاملہ اٹھاتا ہے۔

صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے جنوبی وزیرستان میں اتحادی افواج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام مسلح افواج سےملک کی سلامتی کی خاطر اس قسم کے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی توقع کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کےمشیر داخلہ رحمان ملک نے سوموار کو انکشاف کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مقام پر یقینی طور پر القائدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا لیکن انہیں گرفتار کرنے کا موقع ضائع ہو گیا۔

اسی بارے میں
سوات:خودکش حملہ، ہلاکتیں
23 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد