چینی انجینئر طالبان کے قبضے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سرگرم طالبان نے جمعہ کو لاپتہ ہونے والے دو چینی انجینئروں کو اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ ان انجینئروں کو تین دن قبل ضلع دیر کے خال کے علاقے تور منگ میں ایک نجی موبائل کمپنی کے ٹاور کی مرمت کے بعد واپسی پر محافظ اور ڈرائیور سمیت اغواء کر لیا گیا تھا۔ سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے چینی انجینئروں اور ان کے ساتھیوں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں طالبان نے محفوظ مقام تک پہنچا دیا ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ طالبان کی مرکزی شورٰی کرے گی۔ انہوں نے ان چینی انجینئروں کے اغواء کی وجہ بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ سال جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والی کارروائی چین کے دباؤ کے نتیجے میں کی گئی تھی۔ ان کے بقول جامعہ حفصہ کے طلباء کی جانب سے اسلام آباد سے چینی شہریوں کی اغواء کے بعد ہی لال مسجد کےخلاف کارروائی کی گئی۔ یاد رہے کہ دو روز قبل ضلع دیر میں حکام نے کہا تھا کہ مغویان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور واقعہ کی تفتیش کے لیے تین ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی انجینئروں نے دیر آمد سے قبل مقامی انتظامیہ کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ | اسی بارے میں لاپتہ چینی انجینئرز کی تلاش جاری31 August, 2008 | پاکستان سوات جھڑپیں: پچیس اہلکار اغوا29 July, 2008 | پاکستان جنڈولہ: فائرنگ، 2ہلاک13 August, 2008 | پاکستان آزاد فضا کی بجائے کرفیو میں محصور لوگ14 August, 2008 | پاکستان زرگیری:’سکیورٹی فورسز کا کنٹرول‘18 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||