BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزاد فضا کی بجائے کرفیو میں محصور لوگ

بمباری کے خلاف مظاہرہ
باجوڑ کے رہائشی بچے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے علاقے میں ہونے والی بمباری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں
پاکستان کے دیگر شہروں کے برعکس قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان میدانِ کارزار بننے والے علاقوں میں بسنے والوں نے جمعرات کو یومِ آزادی بے یقینی، نقل مکانی اور توپخانوں کی گھن گرج کے دوران منائی۔

باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے پشاور یونیورسٹی میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالبعلم فیصل ناصر نے جمعرات کی صبح نقل مکانی کے دوران فون کر کے مجھے نیند سے جگایا۔ فون اٹھاتے ہیں انہوں نے کہا’ یومِ آزادی ہمارے لیے یومِ بربادی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ میں اپنے خاندان کے ہمراہ کئی گھنٹوں کا پیدل سفر کرکے ضلع دیر کے علاقے منڈا پہنچا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے جو بہت سی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے مگر بقول ان کے اپنی ہی فوج اور حکومت بیرونی قوتوں کے کہنے پر ہمارے گھروں او مساجد کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ادھرشورش زدہ سوات میں بھی لوگوں نے جب یوم آزادی کے موقع پر اپنی آنکھیں کھولیں تو انہوں ایک آزاد فضا کی بجائے خود کو کرفیو کی وجہ سے گھروں میں محصور پایا۔وہ بچے جنہوں نے پچھلے سال اپنے سکولوں میں آزادی کی خوشیاں منائی تھیں آج ان کے ذہنوں میں اپنے جلائے جانے والے درجنوں سکولوں کے کھنڈرات کی تصویریں گردش کر رہی ہوں گی۔

ایک پرائیویٹ کالج کے پرنسپل ضیاء الدین یوسفزئی نے شورش زدہ سوات میں یوم آزادی کے حوالے سے کہا۔ ’ آج یہاں پر پچھلے سال کی طرح کسی بھی گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر نہیں آئے گا اور نہ ہی لوگ خوشی سے فضاء میں غبارے چھوڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ پہلے یوم آزادی کی آمد کے موقع پر صدر مقام مینگورہ میں جھنڈیاں اور بیجز فروخت ہوتے تھے مگر اب پورے بازار کو بھی اگر کھنگالا جائے تو ایسی کوئی چیز نہیں ملے گی۔‘

ان کے بقول’ پہلے سکولوں میں تقریبات منعقد ہوتی تھیں مگر اب تک طالبان کی جانب سے اسی سے زائد سکول جلائے گئے ہیں جس سے ایک لاکھ سے زائد بچیاں تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئیں ہیں جبکہ دوسری طرف سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے آئے روز شورش زدہ تحصیل مٹہ، چہار باغ اور کبل میں عام شہری مر رہے ہیں۔‘

ضیاؤالدین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ انیس سو سینتالیس میں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا تو اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں نے ایک آزاد ملک سمجھ کر یہاں ہجرت کی مگر بقول ان کے آج بدقسمتی سے’ سوات، باجوڑ، جنوبی و شمالی وزیرستان اور کُرم ایجنسی کے لوگ اپنی ہی فوج اور طالبان کی زیادتیوں وجہ سے ملک کے اندر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔‘

دوسری طرف کُرم ایجنسی اور ضلع ہنگو کے استرزئی کے علاقے میں بھی لوگوں نے بی بی سی کو کہا ہے کہ وہاں گھروں پر سبز ہلالی پرچم کی بجائے کالی جھنڈیاں لہرائی گئی ہیں۔فرقہ ورانہ فسادات میں متحارب گروپوں نے ایک دوسرے کے دو درجن سے زائد گاؤں کو نذرِ آتش کیا ہےاورچند دنوں کی جھڑپوں میں ایک سو سے زائد لوگ جان بحق ہوئے ہیں۔ فریقین فسادات روکنے کے حوالے سےحکومتی عدم دلچسپی کی شکایت کر رہے ہیں۔

حالیہ فسادات میں بے گھر ہونے والےمیر زمان بنگش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ’ کون سا جشن اور کہاں کی آزادی، ہمارے علاقے میں تو خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، چار ماہ سے راستے بند ہیں، لوگ خوراک اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔جبکہ حکومت ’ لڑاؤ اور حکومت کرو، کی پالیسی پر گامزن ہے۔‘

گھروں کو واپسی
وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
وزیرستان ’نقصان کا ازالہ‘
وزیرستان میں نقصان کے اندازے کے لیے کمیٹی
وزیرستان’طالبان کے دیس میں‘
بیت اللہ سے ملاقات کے لیے صحافیوں کا سفر
طالبان سےمعاہدہ
پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے؟
وزیرستان آپریشن
’قبائلی علاقوں میں 400 ہلاک ہزاروں بےگھر‘
طالبان’طالبان کا کنٹرول‘
وانا میں امن قائم لیکن طالبان امریکہ سے خائف
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد