وزیرستان: تباہ شدہ گھروں کو واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی خطے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان دو تین ماہ سے جاری لڑائی تھم گئی ہے اور کشیدگی کی وجہ سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔ وزیرستان میں گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران سب سے شدید لڑائی شاید گزشتہ چند ماہ میں محسود خطے میں ہوئی ہے۔ پورا علاقہ ہی نقل مکانی پر مجبور ہو گیا۔ سپنکئی رغزئی، کوٹکئی اور کالوروغہ جیسے کئی گاؤں دیکھتے ہی دیکھتے ویران ہوگئے۔
مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے جنگجوؤں کے ساتھ ہم بھی ان واپس لوٹنے والوں کے پاس پہنچے تو ان کی طرح ہم بھی بمباری سے مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ شاید ہی اس علاقہ میں کوئی مکان ہو جسے نقصان نہ پہنچا ہو۔ قلعہ نما مٹی کے مکانات کی در و دیوار میں بڑے بڑے سوراخ اس علاقے پر گزرنے والے حالات کی عکاسی کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ لڑائی کے آغاز پر جو جس نے پہنا ہوا تھا یا اٹھا سکتا تھا ساتھ لے کر وہاں سے نکل گیا۔ انہیں دوسرے روز پیچھے رہ جانے والے چچا زاد بھائی نے بتایا کہ ان کے مکان پر جیٹ طیاروں سے بمباری ہوئی ہے۔ واپسی پر انہیں رہائش کے مسئلے کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کی کمی اور بجلی نہ ہونے جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ ’ہم گھر میں ستر اسی لوگ ہیں۔ بچے ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں۔‘ انہیں امید تھی کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ حکومت نے کہا ہے تو شاید نقصان کا کچھ ازالہ ہو جائے۔
گل امیر، جو ہیں تو محکمہ صحت کے ڈسپنسر لیکن مشہور بطور ڈاکٹر ہیں کافی پریشان دکھائی دیے۔ ان کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ ان کا نقصان جلد از جلد پورا کرے۔ ’حکومت نے خواہ مخواہ اسے تباہ کر دیا۔‘ گاؤں کے لوگوں نے بمباری میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گولیوں کے خول سڑک کے کنارے جمع کر رکھے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ یہ نقصان سکیورٹی فورسز کی بمباری سے ہوا۔ تاہم حکومت اور فوج ماضی میں کہتی رہی ہے کہ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ لڑائی یا کارروائی میں عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ تاہم جنگ تو جنگ ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان:’سینکڑوں ہلاک، ہزاروں بےگھر‘18 April, 2008 | پاکستان جنگ بندی لیکن لوگ لوٹ نہیں رہے08 February, 2008 | پاکستان محسود قبیلے کی سب سے بڑی نقل مکانی07 February, 2008 | پاکستان وزیرستان:80 دن بعد شاہراہ کھل گئی02 April, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں فوجیوں پر حملہ05 May, 2008 | پاکستان ٹانک، وانا شاہراہ دوبارہ بند 08 May, 2008 | پاکستان بے گھر بگٹیوں کو برہمداغ کا انتظار24 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||