BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 May, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: تباہ شدہ گھروں کو واپسی

وزیرستان میں ایک تباہ حال مکان
’ہم گھر میں ستر اسی لوگ ہیں۔ بچے ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں‘

قبائلی خطے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان دو تین ماہ سے جاری لڑائی تھم گئی ہے اور کشیدگی کی وجہ سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔

وزیرستان میں گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران سب سے شدید لڑائی شاید گزشتہ چند ماہ میں محسود خطے میں ہوئی ہے۔ پورا علاقہ ہی نقل مکانی پر مجبور ہو گیا۔ سپنکئی رغزئی، کوٹکئی اور کالوروغہ جیسے کئی گاؤں دیکھتے ہی دیکھتے ویران ہوگئے۔

’سب تباہ ہو گیا‘
 میں نے اپنے بھائی کے ساتھ خلیجی ممالک میں بیس برس تک جو کمائی کی تھی لا کر ان مکانات پر لگا دیئے۔ سب تباہ ہوگیا۔ سونا، بسترا، سامان سب تباہ ہوگیا۔ ایک کروڑ پندرہ بیس لاکھ کا نقصان میرے اندازے کے مطابق ہوا ہے
علی خان
مقامی آبادی نے جو ہاتھ میں آیا لیا اور ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں کا رخ کیا۔ اب جنگ بندی اور فوج کی پوزیشنوں میں تبدیلی سے ان لوگوں کی واپسی ممکن ہوئی ہے۔

مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے جنگجوؤں کے ساتھ ہم بھی ان واپس لوٹنے والوں کے پاس پہنچے تو ان کی طرح ہم بھی بمباری سے مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

شاید ہی اس علاقہ میں کوئی مکان ہو جسے نقصان نہ پہنچا ہو۔ قلعہ نما مٹی کے مکانات کی در و دیوار میں بڑے بڑے سوراخ اس علاقے پر گزرنے والے حالات کی عکاسی کر رہے تھے۔

علی خان
کوٹکئی کے علی خان کے دو منزلہ مکان کی اب صرف ایک آدھ دیوار ہی بچی تھی۔ مکان کی دوبارہ تعمیر میں مصروف علی خان سے ان کا نقصان دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ خلیجی ممالک میں بیس برس تک جو کمائی کی تھی لا کر ان مکانات پر لگا دیئے۔ ’سب تباہ ہوگیا۔ سونا، بسترا، سامان سب تباہ ہوگیا۔ ایک کروڑ پندرہ بیس لاکھ کا نقصان میرے اندازے کے مطابق ہوا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ لڑائی کے آغاز پر جو جس نے پہنا ہوا تھا یا اٹھا سکتا تھا ساتھ لے کر وہاں سے نکل گیا۔ انہیں دوسرے روز پیچھے رہ جانے والے چچا زاد بھائی نے بتایا کہ ان کے مکان پر جیٹ طیاروں سے بمباری ہوئی ہے۔

واپسی پر انہیں رہائش کے مسئلے کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کی کمی اور بجلی نہ ہونے جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ ’ہم گھر میں ستر اسی لوگ ہیں۔ بچے ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں۔‘

انہیں امید تھی کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ حکومت نے کہا ہے تو شاید نقصان کا کچھ ازالہ ہو جائے۔

گھروں کو واپسی
علی خان نے مکان میں طالبان کی موجودگی سے انکار کیا تاہم اصرار کیا کہ ادھر تو ہر جوان لمبے بال رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کے ان کے پڑوسی ڈاکٹر گل امیر کا مکان بھی گولہ باری کی زد میں آیا ہے۔ ’اس کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ اس کی ایک بھینس بھی مری ہے۔‘

گل امیر، جو ہیں تو محکمہ صحت کے ڈسپنسر لیکن مشہور بطور ڈاکٹر ہیں کافی پریشان دکھائی دیے۔ ان کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ ان کا نقصان جلد از جلد پورا کرے۔ ’حکومت نے خواہ مخواہ اسے تباہ کر دیا۔‘

گاؤں کے لوگوں نے بمباری میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گولیوں کے خول سڑک کے کنارے جمع کر رکھے تھے۔

ہر کسی کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ یہ نقصان سکیورٹی فورسز کی بمباری سے ہوا۔ تاہم حکومت اور فوج ماضی میں کہتی رہی ہے کہ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ لڑائی یا کارروائی میں عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ تاہم جنگ تو جنگ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد