محسود قبیلے کی سب سے بڑی نقل مکانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مسلح طالبان کے خلاف دو ہفتے قبل شروع کیے جانے والے آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کی نقل مکانی کو علاقے کے معتبر ماضی قریب میں محسود قبیلے کی پہلی اور سب سے بڑی نقل مکانی قرار دے رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والی خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، انہیں خوراک اور ادویات مہیا کرنے کے لیے محسود قبیلے کے تین سو نوجوانوں پر مشتمل رضاکاروں کی گیارہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان رضاکاروں کے منتظم اعلی ناول خان محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ ان نوجوانوں نے دن رات ایک کرکے پیدل آنے والے بے گھر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے۔ ایک اور رضا کار ظفراللہ خان نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے بعض تنظیموں کے علاوہ کسی بھی ملکی یا بین الاقوامی تنظیم نے تعاون نہیں کیا۔انکا مزید کہنا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن، جیش محمد، باچاخان ٹرسٹ اور ایدھی ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ایمبولینس، خیمے، خوراک کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ فراہم کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نگران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی کو فون کرکے ان سے بے گھر ہونے والے ان افراد کی مدد مانگی مگر بقول انکے انہوں نے’ ٹال مٹول، سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائی کا فون نمبر دیا۔
ظفراللہ کے مطابق جب انہوں نے وزیر کے بھائی کو فون کیا تو انہوں نے ڈاک کے ذریعے باقاعدہ درخواست دینے کو کہا۔ظفراللہ کے بقول’ یہ محض بہانہ تھا، یہاں موت منڈلا رہی تھی وہاں وہ ڈاک کے ذریعے باقاعدہ درخواست کی بات کی جا رہی تھی جو اتنے کم وقت میں ممکن نہیں تھا۔، شیر پاؤ محسود کا کہنا تھا کہ ایک خاندان کے تین افراد جس میں میاں بیوی اور ایک بچہ شامل تھا۔بمباری کی وجہ سے جب انہوں نے اپنا گاؤں چھوڑا تو خاتون کا پیر کھائی سے گرنے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوا۔ انکے مطابق’ چھوٹا بچہ برف کے پانی کے ایک جوہڑ میں گرگیا جبکہ اڑتالیس گھنٹے تک پیدل سفر طےکرنے والے بچےکے باپ کے اوسان خطا ہوگئے اور وہ چلنے کے قابل نہیں رہے۔بچہ پانی میں ہی اپنے والدین کے آنکھوں کے سامنے دم توڑ گیا مگر ان دونوں میں اتنی سکت نہیں رہی تھی کہ بچے کو پانی سے نکال سکتے۔، ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ بی بی زئی گاؤں میں ایک خاتون نے بمباری سے بچنے کے لیے اپنے پاگل بیٹے کو زنجیروں میں جکڑ کر اسے ایک کمرے میں بند کر دیا اور نکل پڑی۔ جب دو دن بعد ایک رشتہ دار نے اس کے گھر جاکر اسکو اس حالت میں پایا تو اس نے زنجیریں کھول کر ٹانک کی طرف چل پڑا۔انکے مطابق تھوڑی دیر بعد دونوں پر فائرنگ کی گئی جس میں گل حسن نامی پاگل زندہ بچ گیا جبکہ داؤد جان ہلاک ہوگیا۔ ایک اور رضا کار نے بتایا کہ کوٹکئی سےنقل مکانی کرنے والے ایک خاندان نے ایک بچے کو سخت سردی کی وجہ سے مردہ سمجھ کر اسے مقامی لوگوں کو دفنانے کے لیے حوالے کیا لیکن خاندان کے چلے جانے کے بعد لوگ بچے کو ایک گرم کمرے میں رکھ کر اسکے دفنانے کی تیاری میں مصروف ہوگئے کہ اس دوران بچے میں سانسیں لوٹ آئیں۔ |
اسی بارے میں طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا09 March, 2007 | پاکستان بیت اللہ محسود کے ساتھی گرفتار؟09 March, 2007 | پاکستان تین شدت پسند، ایک فوجی ہلاک10 March, 2007 | پاکستان پاک افغان جرگہ کا اجلاس شروع12 March, 2007 | پاکستان وزیرستان: طالبان میں کشیدگی کم 12 March, 2007 | پاکستان طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟18 March, 2007 | پاکستان وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک20 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||