BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 May, 2008, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے گھر بگٹیوں کو برہمداغ کا انتظار

بے گھر بگٹی
سندہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں بگٹی خانہ بدوشوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں
بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بعد اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونے والے بےگھر بگٹیوں نے کہا ہے کہ انہیں نئی حکومت کی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں۔ جب نواب اکبر بگٹی کے پوتے برہمداغ یا میر عالی واپس ڈیرہ بگٹی پہنچیں گے تو وہ ایک رات بھی جلاوطن نہیں رہیں گے اور واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوجائیں گے۔

سندہ کے ضلع خیرپور کے مختلف علاقوں میں بسنے والے بگٹیوں کے رہنماؤں عیسی بگٹی، فیض محمد شنبھانی بگٹی اور کالو خان مسوری بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں نئی حکومت کے بلوچستان کےمتعلق اعلانات صرف سیاسی بیانات لگ رہے ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہے ۔

جمہوری وطن پارٹی کے مقامی رہنماء عیسی بلوچ کے مطابق بلوچستان کے وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی نے اپنے بھائی کی سربراہی میں لاپتہ بلوچوں کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی مگر ایک ماہ گزر جانے کے باوجود وہ کمیٹی کسی ایک بے گھر اور جلاوطن بگٹی یا مری کے گھر تک نہیں پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے بیانات دینے اور عملی کام کرنے میں بہت فرق نظر آیا ہے۔ان کے مطابق بلوچستان میں فوجی آپریشن رکا نہیں ہے۔عیسی کے مطابق فوجی عام چرواہے بلوچوں کو زندہ جلا رہے ہیں۔

عیس بلوچ نے بے گھر بگٹیوں کی امداد کے لیے غیر سرکاری تنظیموں آکسفیم،یونسیف ،ایکشن ایڈ ،اسلامک ریلیف اور دیگر کو اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ متاثرین کی مدد کریں اور ان کےمطابق خود آکر دیکھیں کہ کس طرح دربدری میں بلوچوں کےمعصوم بچے خوراک اور ادویات نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

براہمداغ بگٹی
بلوچ براہمداغ بگٹی کے واپس آنے کا انتظار کر رہے ہیں

عیسیٰ بلوچ کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن کے بعد چالیس ہزار خاندان سندہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ان میں سے کئی خاندانوں نے خوف اور سواری نہ ملنے کے وجہ سے اپنا سفر پیدل طے کیا تھا۔جب وہ سندہ کی حدود والے علاقوں جیکب آباد اور کشمور پہنچے تو انہیں سواری ملی۔

سندہ کے خیرپور، روہڑی، کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ہزاروں بگٹی خانہ بدوشوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خیرپور میں وہ پہاڑوں سے پتھر کی کٹائی کا کام کرتے ہیں اور گندم کی کٹائی کی مزدوری وہ عام مزدوروں سے آدھے رقم پر کرنے کو مجبور ہیں۔

کالو خان کے مطابق مقامی زمیندار جب بگٹی مزدور کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنی مزدوری کی رقم آدھی کم کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ بےگھر بگٹی گندم کے ایک ایکڑ کی کٹائی دو نہیں ایک من گندم کےمعاوضے پر بھی کردیں گے۔

کالو خان کے مطابق ان کی جھونپڑیوں کے نزدیک پانی کا تالاب خراب ہوچکا ہے اور ان کے بچے آلودہ پانی پینے کی وجہ سے اکثر بیمار رہتے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں اپنے علاقے کے وڈیرے فیض محمد شنبھانی بگٹی بھی بے گھر بلوچوں میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق خوشی سے کوئی اپنی زمین نہیں چھوڑتا۔انہیں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

فیض محمد کے مطابق انہیں کوئی خاص امید نہیں ہے کہ رئیسانی حکومت بے گھر بلوچوں کو اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کر سکے گی۔انہیں حکومت پر اعتماد نہیں مگر وہ دیکھیں گے کہ اگر نواب اکبر بگٹی کے پوتے خصوصاً برہمداغ واپس ڈیرہ بگٹی پہنچ جاتے ہیں تو وہ بھی اپنے علاقوں کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں
گیس پائپ لائن پر دھماکہ
26 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد