ڈیرہ بگٹی میں صحت کے مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سے فوجی آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کو مختلف بیماریوں کا سامنا ہے۔ ان میں خوراک کی قلت، آلودہ پانی، انتقال خون اور فضائی آلودگی سے پیدا ہونے بیماریاں زیادہ ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایک ہی گھر میں آٹھ بچوں کو ہیپیٹائیٹس بی ہے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللہ یار کے قریب بگٹی مری قبیلے کے بے گھر افراد کے لیے میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے جس میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو مختلف بیماریاں درپیش ہیں جن میں ہیپاٹائیٹس تقریباً ہر خاندان میں ہے۔ مری فارم کے قریب قائم اس کیمپ میں موجود ڈاکٹر منان نے بتایا ہے انہوں نے پچاسی افراد کا معائنہ کیا ہے جن میں خوراک کی قلت آلودہ پانی اور فضائی آلودگی سے متعلقہ بیماریاں پائی جاتی ہیں جیسے کینسر یرقان یا ہیپاٹائیٹس کے علاوہ گردوں کی بیماریاں زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر منان کے مطابق ایسے مریض بھی ان کے کیمپ میں آئے ہیں جنھیں کھانسی کے ساتھ ساتھ سانس کی شدید تکلیف لاحق ہے اور یہ بیماریاں ان علاقوں میں شدید بمباری کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں واضح تحقیق نہیں کی گئی ہے کہ ان لوگوں میں ان بیماریوں کے پھیلنے کی کیا وجوہات ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایک خاندان میں آٹھ بچوں کو ہیپاٹائیٹس بی ہے اور یہ بیماری خون کے تبادلے یا انفیکشن سے پھیلتی ہے۔ ایک مریض وزیر مری نے بتایا کہ ان کے خاندان میں بیس کے لگ بھگ افراد ہیں اور اس وقت مری فارم میں کوئی پچیس خاندان آباد ہیں۔ وزیر کے مطابق ان کے خاندان میں گزشتہ دنوں تین افراد کینسر سے فوت ہوگئے ہیں جبکہ کوئی ایسا خاندان نہیں ہے جہاں یرقان یا ہیپاٹائٹس کی بیماری نہ ہو۔ بلوچ نیشنل فرنٹ سات سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل ہے اور اس اتحاد کی جانب سے گزشتہ دنوں کوئٹہ اور دیگر علاقوں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے بے گھر افراد کی امداد کے لیے کیمپ لگائے گئے تھے۔ بی این ایف کے عہدیداروں کے مطابق چند دن کی کوششوں سے انہوں نے پانچ لاکھ روپے اور کوئی ڈیڑھ لاکھ روپے کی ادویات اپنی مدد آپ کے تحت جمع کی تھیں اور اب ان علاقوں میں بے گھر افراد کی مدد کے لیے میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں آٹھ ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں فزیشن سرجن ماہرین اطفال اور خواتین کی بیماریوں کے ڈاکٹر شامل ہیں۔ یاد رہے دو سال پہلے اقوام متحدہ کے ادارے کے علاوہ ایدھی اور مقامی تنظیموں نے ان افراد کی مدد کرنا چاہی تھی لیکن حکومت نے انہیں روک دیا تھا اور ان لوگوں کی مدد نہیں کی گئی تھی۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار افراد بے گھر ہو کر سبی، ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد اور ڈیرہ اللہ یار کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان میں کچھ لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے لیکن اب ایک مرتبہ پھر ڈیرہ بگٹی کے کچھ علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ لوگ حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد پھر سے اپنا گھر بار چھوڑ کر مختلف علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں خضدارگرفتاریاں، کوئٹہ میں فائرنگ 01 May, 2008 | پاکستان بلوچستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ05 May, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں تشدد، پولیس پر حملہ07 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: سوئی کے نواح میں گرفتاریاں 10 May, 2008 | پاکستان تربت : سیلاب متاثرین کا احتجاج12 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: ججوں کے لیےتحریک بدھ سے13 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||