BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 May, 2008, 19:56 GMT 00:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خضدارگرفتاریاں، کوئٹہ میں فائرنگ

کوئٹہ (فائل فوٹو)
کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پہلے بھی مسلح حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں (فائل فوٹو)
کوئٹہ میں عدالت روڈ پر نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

ادھر خضدار میں پولیس نے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے قتل کے الزام میں چھبیس افراد سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ بلوچ نینشل فرنٹ کے عہدیداروں کے مطابق گرفتار اور لاپتہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

جمعرات کو شام کے وقت عدالت روڈ اور جناح روڈ کے سنگم پر پیدل افراد نے موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے۔ جس سے ایک اہلکار جمعہ ہلاک ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کون لوگ تھے۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفو ن پر اس حملے کی زمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ یاد رہے اس تنظیم کی جانب سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی جاتی رہی ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس کے مطابق دو روز پہلے بلوچستان کے شہر خضدار میں حفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلیجنس کے دو ہلکاروں کے قتل کے الزام میں کوئی چھبیس افراد سے تفتش کی جا رہی ہے۔ خضدار کے پولیس افسر حامد شکیل نے بتایا ہے کہ تاحال کسی کو باقاعدہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا ہے لیکن پوچھ گچھ کے لیے لوگوں سے تفتیش ضرور کی جا رہی ہے۔

اس کے برعکس بلوچ نیشنل فرنٹ کے عہدیداروں کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی تعداد میں ان کے اتحاد میں شامل جماعتوں کے عہدیداروں اور کارکنوں کو اٹھایا ہے ۔ ان افراد میں جمہور وطن پارٹی کے ضلعی صدر غفار بلوچ 'بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نور احمد بنگلزئی 'مصدق بلوچ' یاسر بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ

ستر سے زیادہ افراد گرفتار یا لاپتہ ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔

بلوچ نیشنل فرنٹ آٹھ بلوچ قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل ہے جس کے سربراہ بلوچ نیشنل مومنٹ کے غلام محمد بلوچ ہیں۔ اس اتحاد کے زیر انتظام جمعہ کے روز ایک جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایم آئی کے اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کے ترجمان نے قبول کی ہے لیکن پولیس سیاسی سطح پر جدو جہد کرنے والی تنظیموں کو گرفتار کرکے خوف ہراس پھیلا رہی ہے۔

یاد رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری بلوچ قوم سے ماضی کی زیادتیوں کی معافی مانگ چکے ہیں لیکن بلوچ نیشنل فرنٹ کے کارکنوں کے مطابق ان معافیوں اور وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے دعوؤں کے باوجود صدر جنرل پرویز مشرف کی بلوچستان کے حوالے سے پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے۔

اسی بارے میں
گیس پائپ لائن پر دھماکہ
26 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد